Skip to content

اسپورٹس خبریں

اپریل 14, 2026


چنئی نے 20 اوورس میں 5 وکٹ کے نقصان پر 192 رن بنائے تھے۔ جواب میں کولکاتا کی ٹیم مقررہ 20 اوورس میں 7 وکٹ کے نقصان پر 160 رن ہی بنا سکی۔ نور احمد نے 4 اوورس میں 21 رن دے کر 3 وکٹ لیے۔

<div class="paragraphs"><p>نور احمد، تصویر ’ایکس‘ @IPL</p></div><div class="paragraphs"><p>نور احمد، تصویر ’ایکس‘ @IPL</p></div>

i

user

کولکاتا نائٹ رائیڈرس (کے کے آر) کے لیے ’آئی پی ایل 2026‘ اب تک انتہائی مایوس کن ثابت ہوا ہے۔ آج اپنے پانچویں میچ میں بھی اسے چنئی کے ہاتھوں 32 رنوں سے شکست ہاتھ لگی۔ 5 میچوں میں اس کے ایک پوائنٹس ہیں، اور وہ بھی اس لیے کیونکہ پنجاب کے خلاف کولکاتا کا میچ بارش کی نذر ہو گیا تھا، جس سے دونوں ٹیموں کو 1-1 پوائنٹس ملے تھے۔ اس ایک پوائنٹ کے ساتھ کولکاتا کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل میں سب سے نیچے پہنچ گئی ہے۔

آج کولکاتا کے کپتان اجنکیا رہانے نے ٹاس جیت کر پہلے گیندبازی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سنجو سیمسن (48 رن)، آیوش مہاترے (38 رن)، ڈیوالڈ بریوس (41 رن) اور سرفراز خان (23 رن) کی بدولت چنئی نے 20 اوورس میں 5 وکٹ کے نقصان پر 192 رن بنانے میں کامیاب ہوئی۔ یہ رن بہت زیادہ تو معلوم نہیں ہو رہے تھے، لیکن چنئی کے گیندبازوں، خاص طور سے نور احمد نے کولکاتا کی راہیں مشکل بنا دیں۔ نور نے تو محض 7 گیندوں کے اندر 3 اہم وکٹ (اجنکیا رہانے، کیمرون گرین، رنکو سنگھ) لے کر کولکاتا کو ایک طرح سے بے نور ہی کر دیا۔ نور احمد نے 4 اوورس میں محض 21 رن دے کر 3 وکٹ لیے۔

کولکاتا کی بلے بازی شروع سے ہی ایک طرح سے لڑکھڑائی ہوئی نظر آ رہی تھی، کیونکہ فن ایلن محض ایک رن بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ سنیل نرائن نے 24 رن اور انگکرش رگھوونشی 27 رن ضرور بنائے، لیکن یہ تیز نہیں کھیل سکے۔ یہاں پر 11 رنوں کے اندر 4 وکٹ گرے، جن میں سے 3 وکٹ نور احمد نے لیے۔ کپتان اجنکیا رہانے کا 28 رن کے ذاتی اسکور پر آؤٹ ہونا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ یہیں سے کولکاتا جیت سے دور ہو گئی، اور پھر آخر تک سنبھل نہیں پائی۔ رمن دیپ سنگھ نے 23 گیندوں پر 35 رن اور روومن پاویل نے 22 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 31 رن ضرور بنائے، لیکن یہ جیت کے لیے ناکافی تھے۔ خلیل احمد کی بھی تعریف کرنی ہوگی، جنھوں نے 3.5 اوورس میں محض 24 رن دے کر ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ عقیل حسین نے بھی 4 اوورس میں محض 26 رن دے کر ایک کھلاڑی کو پویلین بھیجا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔






Source link

About The Author