
شکارپور میں خونی تنازع کے سائے میں تعلیم تباہ — جرگے کے بعد امن کی نئی امید
شمالی سندھ کے ضلع شکارپور کے ایک پسماندہ گاؤں میں واقع ایک چھوٹا سا مدرسہ آج بھی بچوں کی آوازوں سے گونج رہا ہے، جہاں ایک کمرے میں تقریباً دو درجن بچے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مگر اس مدرسے کے ساتھ ہی موجود دو سرکاری سکول عمارتیں ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں—ایک مکمل طور پر کھنڈر بن چکی ہے جبکہ دوسری ویران اور غیر آباد پڑی ہے۔ یہ ویرانی کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل اور خونی قبائلی تنازع کا انجام ہے۔
یہ تنازع ’جونیجو‘ اور ’کلہوڑا‘ برادریوں کے درمیان گزشتہ نو برسوں سے جاری تھا، جس نے نہ صرف درجنوں قیمتی جانیں لیں بلکہ علاقے کی سماجی اور تعلیمی بنیادوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ مقامی حکام کے مطابق اس تصادم میں مجموعی طور پر 48 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔
نو گو ایریاز اور خوف کی فضا
تنازع کے دوران دونوں برادریوں نے اپنے اپنے علاقوں کو مخالفین کے لیے ’نو گو ایریاز‘ میں تبدیل کر دیا تھا۔ اس صورتحال نے عام شہریوں کی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا، جبکہ بچوں کی تعلیم سب سے زیادہ متاثر ہوئی۔ والدین نے خوف کے باعث اپنے بچوں کو سکول بھیجنا بند کر دیا، جس کے نتیجے میں سکول خالی ہوتے گئے اور آخرکار ویرانی کا منظر پیش کرنے لگے۔
مقامی افراد کے مطابق کئی اساتذہ نے بھی حالات کے پیش نظر یہاں سے تبادلہ کروا لیا یا نوکری چھوڑ دی، جس سے تعلیمی نظام مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
مدرسہ: واحد سہارا
ان حالات میں ایک مقامی مدرسہ ہی ایسا ادارہ رہ گیا جہاں بچوں کی تعلیم کا سلسلہ کسی حد تک جاری رہا۔ اگرچہ یہاں صرف دینی تعلیم دی جا رہی ہے، مگر یہ ادارہ علاقے کے بچوں کے لیے واحد تعلیمی سہارا بن چکا ہے۔
جرگہ: امن یا متنازع حل؟
گزشتہ ماہ دونوں برادریوں کے درمیان ایک جرگہ منعقد ہوا، جس میں فریقین نے اپنے دیرینہ تنازع کو ختم کرنے پر اتفاق کیا۔ اس جرگے کے بعد علاقے میں وقتی طور پر امن بحال ہوا ہے اور لوگ معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے لگے ہیں۔
تاہم اس جرگے پر قانونی اور سماجی حلقوں کی جانب سے سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں عدالتی نظام موجود ہونے کے باوجود ایسے جرگوں کا انعقاد نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ بعض اوقات انصاف کے تقاضوں کو بھی پورا نہیں کرتا۔
تعلیمی بحالی کا چیلنج
اب جبکہ علاقے میں امن کی فضا بحال ہو رہی ہے، سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ تباہ شدہ تعلیمی نظام کو کیسے بحال کیا جائے۔ مقامی افراد اور سماجی کارکنان حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری طور پر سکولوں کی بحالی، اساتذہ کی تعیناتی اور بچوں کی واپسی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
یہ واقعہ نہ صرف قبائلی تنازعات کے نقصانات کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ تعلیم جیسے بنیادی حق کو نظر انداز کرنے کے نتائج کتنے بھیانک ہو سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکام اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے علاقے کو دوبارہ علم و آگہی کی راہ پر گامزن کر پاتے ہیں یا نہیں۔
