
پاکستان کے خلائی شعبے سے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں قومی خلائی تحقیقاتی ادارے سپارکو نے اعلان کیا ہے کہ دو پاکستانی خلا بازوں کو جدید تربیت کے لیے چین روانہ کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سپارکو کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ منتخب کیے گئے خلا بازوں میں خرم داؤد اور محمد ذیشان علی شامل ہیں، جو جدید خلائی تربیت حاصل کرنے کے لیے چین پہنچ چکے ہیں۔ یہ تربیت چین کے انسانی خلائی پروگرام کے تحت فراہم کی جائے گی، جہاں انہیں خلائی مشنز، تکنیکی مہارتوں اور بین الاقوامی معیار کے مطابق آپریشنل تیاریوں سے گزارا جائے گا۔
سپارکو کے مطابق ان دونوں خلا بازوں میں سے ایک کو رواں سال اکتوبر میں چینی خلا بازوں کے ہمراہ خلا میں بھیجنے کا منصوبہ ہے، جو پاکستان کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوگا۔ اس مشن کے ذریعے پاکستان پہلی بار انسانی خلائی پرواز کے میدان میں عملی شرکت کرے گا۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس پیش رفت کے بعد پاکستان اُن محدود ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جو انسانی خلائی پروگرام میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف سائنسی ترقی کا مظہر ہے بلکہ پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے سٹریٹجک تعاون کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس پروگرام سے پاکستان میں خلائی تحقیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور نوجوان سائنسدانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جو مستقبل میں ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
یہ تھی پاکستان کے خلائی شعبے سے ایک اہم خبر، مزید اپڈیٹس کے لیے ہمارے ساتھ رہیے۔
