یہ کہانی بلوچستان کے ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والی خاتون اسما جتک کی ہے جنھیں فروری 2025 کے دوران مبینہ طور پر رشتہ دینے سے انکار پر اغوا کیا گیا تھا۔ اسما کے اغوا پر مقامی احتجاج کے بعد انھیں بازیاب کروا لیا گیا تھا۔
تاہم اب اسما کے بھائی ڈاکٹر عطا اللہ جتک کا کہنا ہے کہ ’زبردستی رشتے سے انکار پر پہلے دو رشتہ داروں سمیت پانچ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور اب والد کو بھی قتل کیا گیا ہے۔‘
عطا اللہ اور اسما کے والد ماسٹر عنایت اللہ کو نامعلوم مسلح افراد نے منگل کے روز خضدار میں نشانہ بنایا اور ان کے قتل کی ایف آئی آر میں جن افراد کو نامزد کیا گیا ہے، ان میں مرکزی ملزم ظہور جمالزئی نامی وہی شخص ہیں جن پر گذشتہ سال اسما کو اغوا کرنے کا الزام بھی لگا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ عنایت اللہ کے قتل کے بعد بلوچستان حکومت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جمالزئی سمیت دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو کہ ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہیں

بلوچستان میں وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک خاتون قرآن مجید ہاتھ میں تھامے متعلقہ حکام اور قبائلی عمائدین سے اپنے اغوا کے ذمہ داران کے حوالے سے انصاف مانگتی دیکھی جا سکتی ہے
