
جدید جنگوں میں اسلحے کے بجائے اے آئی کا بڑھتا ہوا استعمال
دنیا بھر میں جنگی حکمتِ عملی تیزی سے بدل رہی ہے اور اب روایتی ہتھیاروں کے مقابلے میں مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں بلکہ ٹیکنالوجی، سائبر اسپیس اور ڈیجیٹل نظاموں تک پھیل چکی ہیں۔
حالیہ برسوں میں کئی ممالک نے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں مصنوعی ذہانت کو شامل کیا ہے، جس کے ذریعے ڈرون حملوں، نگرانی، جاسوسی اور دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے جیسے کام زیادہ مؤثر انداز میں انجام دیے جا رہے ہیں۔ اے آئی کی مدد سے نہ صرف فیصلے تیزی سے کیے جا سکتے ہیں بلکہ انسانی جانوں کے نقصان کو بھی کم کیا جا رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل کی جنگیں "اسمارٹ وار” ہوں گی، جہاں روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ سائبر حملے، ڈیٹا ہیکنگ، اور خودکار نظام اہم کردار ادا کریں گے۔ اس کے علاوہ اے آئی سے چلنے والے خودکار ڈرونز اور روبوٹک ہتھیار بھی جنگی حکمت عملی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
تاہم ماہرین نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے اخلاقی اور قانونی مسائل جنم لے سکتے ہیں، کیونکہ خودکار نظاموں کے فیصلے بعض اوقات غیر متوقع نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ اے آئی جنگی نظام کو جدید اور مؤثر بنا رہی ہے، لیکن اس کے استعمال کے لیے عالمی سطح پر واضح قوانین اور ضوابط کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال روکا جا سکے۔
