سپین کی ایک خاتون نویلیا کاسٹیلو، جنہوں نے رضاکارانہ موت (یوتھنیزیا) کے حق کے لیے اپنے خاندان کے خلاف طویل قانونی جنگ لڑی، کو جمعرات کو بارسلونا میں زندگی ختم کرنے والی دوا دے دی گئی۔ ان کی عمر 25 برس تھی۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تقریباً دو برس تک کاسٹیلو نے اپنے حقِ موت کے لیے جدوجہد جاری رکھی، جب ان کے والد نے اس وقت طویل قانونی لڑائی شروع کی جب کاتالونیا کے ایک طبی ادارے نے سنہ 2024 میں ان کی یوتھنیزیا کی درخواست منظور کر لی تھی۔
خاندانی تنازع کے دوران نویلیا کاسٹیلو کا مقدمہ سپین بھر میں توجہ کا مرکز بنا رہا، جہاں سنہ 2021 میں ایسے قوانین منظور کیے گئے تھے جو مخصوص شرائط پوری کرنے والے مریضوں کو یوتھنیزیا اور طبی معاونت سے خودکشی کا حق دیتے ہیں۔ کاسٹیلو کی کم عمری، ان کے خاندان کی جانب سے انہیں روکنے کے لیے عوامی سطح پر کی گئی کوششیں، اور وہ حالات جن کی وجہ سے انہوں نے یہ فیصلہ کیا، سب نے عوامی رائے کو متاثر کیا، یہاں تک کہ عدالتوں نے بالآخر ان کے حق میں فیصلہ دے دیا۔
بدھ کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں ہسپانوی نشریاتی ادارے اینٹینا 3 سے گفتگو کرتے ہوئے نویلیا نے کہا کہ ’آخرکار میں کامیاب ہو گئی ہوں، اب دیکھتے ہیں کہ کیا مجھے سکون ملتا ہے۔ میں اب مزید برداشت نہیں کر سکتی۔‘
کاسٹیلو کے والدین آخر تک ان کے فیصلے کے مخالف رہے اور ان کی نمائندگی قدامت پسند کیتھولک تنظیم ’ابوگادوس کرسٹیانوس‘ کر رہی تھی۔ اس تنظیم نے جمعرات کو تصدیق کی کہ کاسٹیلو کی موت بارسلونا کے ایک ہسپتال میں ہوئی، جہاں باہر چند افراد جمع تھے۔
تنظیم کی وکیل پولونیا کاسٹیلانوس نے کہا کہ کاسٹیلو کے خاندان کو اس نتیجے پر شدید مایوسی ہوئی ہے اور ان کا ماننا ہے کہ ہسپانوی حکومت نے ان کی بیٹی کو مرنے کی اجازت دے کر اسے تنہا چھوڑ دیا اور اس کی حفاظت میں ناکام رہی۔

