امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران تقریباً چار ہفتوں سے جاری لڑائی کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے، جو کہ ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان سے متصادم ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کا ملک امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے لیکن تنازع کم کرنے کے لیے مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمعرات کو ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی مذاکرات کار معاہدے کے لیے ’منتیں کر رہے ہیں‘ اور یہ دعویٰ کہ وہ شرائط کا جائزہ لے رہے ہیں، ’غلط‘ ہے۔
یہ متضاد بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنگ کے معاشی اور انسانی اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں، ایندھن کی قلت عالمی سطح پر پھیل رہی ہے اور کمپنیاں اور ممالک اس کے اثرات کو قابو میں رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہے ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اگرچہ امریکہ کے ساتھ کوئی باضابطہ بات چیت یا مذاکرات نہیں ہوئے، تاہم ثالث ممالک کے ذریعے مختلف پیغامات کا تبادلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے بدھ کو سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’ہمارے دوست ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ اور ہماری جانب سے اپنے موقف کا اظہار یا ضروری انتباہات دینا مذاکرات یا بات چیت نہیں کہلاتا۔‘
بدھ کو ہی واشنگٹن میں ایک تقریب کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانی رہنما ’ویسے تو مذاکرات کر رہے ہیں اور وہ معاہدہ کرنے کے لیے بہت بے تاب ہیں، لیکن وہ یہ بات کہنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے ہی عوام کے ہاتھوں مارے جانے کا خوف ہے۔ انہیں یہ بھی خوف ہے کہ ہم انہیں مار سکتے ہیں۔‘
اگرچہ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکہ ایران میں کن افراد کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے، جبکہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد ایران نے اسرائیل، امریکی اڈوں اور خلیجی ممالک پر حملے کیے ہیں۔
ایران کے سپریم کمانڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پہلے ہی دن ایک اسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے، جس کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کی جگہ مقرر کیا گیا۔ مجتبیٰ حملوں میں زخمی ہو چکے ہیں اور تقرری کے بعد سے اب تک کسی تصویر یا ویڈیو میں نظر نہیں آئے۔

اسرائیلی کابینہ کے تین ذرائع کے مطابق امریکہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی 15 نکاتی تجاویز، جو پاکستان کے ذریعے ایران کو بھجوائی گئی، میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنے، اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنے اور خطے میں اپنے اتحادیوں کی مالی معاونت روکنے جیسے مطالبات شامل ہیں۔
اگرچہ وائٹ ہاؤس نے ان تفصیلات کو ظاہر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
ایک سینیئر اسرائیلی دفاعی عہدیدار نے کہا کہ اسرائیل کو شبہ ہے کہ ایران ان شرائط کو قبول کرے گا، جبکہ اسے یہ خدشہ بھی ہے کہ امریکی مذاکرات کار ممکنہ طور پر رعایتیں دے سکتے ہیں۔ ایک دوسرے ذریعے کے مطابق اسرائیل چاہتا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں اسے پیشگی حملے کرنے کا اختیار برقرار رہے۔
ادھر ایران کے موقف سے آگاہ خطے کے چھ ذرائع نے بتایا کہ ایران نے ثالث ممالک کو بتایا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کسی بھی جنگ بندی معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

جنگ کے اثرات
جنگ کے اثرات، جس نے توانائی کے شعبے میں تاریخ کا بدترین بحران پیدا کیا ہے، خطے سے کہیں آگے تک پھیل چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز، جو دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، عملاً بند ہونے کے باعث فضائی کمپنیوں سے لے کر سپر مارکیٹس اور استعمال شدہ گاڑیوں کے کاروبار تک متعدد شعبے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ان مسائل میں بڑھتی لاگت، کمزور ہوتی طلب اور سپلائی چین میں رکاوٹیں شامل ہیں۔ کچھ حکومتیں کورونا وبا کے دوران اختیار کیے گئے امدادی اقدامات کو دوبارہ نافذ کرنے پر غور کر رہی ہیں۔
دوسری جانب کسان اور ماہی گیر اپنے ٹریکٹروں کے لیے ڈیزل حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ عالمی خوراک پروگرام کے اندازے کے مطابق اگر جنگ جون تک جاری رہی تو کروڑوں مزید افراد کو شدید بھوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
