
سندھ گورنمنٹ کی سرینڈر پالیسی کے تحت دوسرے مرحلے (فیز ٹو) کا آغاز کر رہے ہیں۔ — ایس ایس پی شکارپور۔
شکارپور پولیس، سندھ رینجرز، وفاقی انٹیلی جنس کی مشترکہ کارروائیوں میں 60 ڈاکوؤں نے پولیس کے آگے سرینڈر کیا ہے ۔ ایس ایس پی شکارپور
پیش ہونے ڈاکوؤں کے خلاف مختلف اضلاع میں اغواء برائے تاوان، ڈکیتی، چوری، رابری سمیت دیگر وارداتوں میں مطلوب ہیں ۔
پیش ہونے والے ڈاکوؤں میں انعام یافتہ بھی شامل ہیں ۔ ایس ایس پی شکارپور
سرینڈر کرنے والوں میں بدنام ڈاکو بیلو تیغانی بھی شامل ہے، سندھ گورنمنٹ نے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر کی تھی۔ جبکہ دیگر ساتھیوں میں 50 لاکھ سے لیکر 5لاکھ تک شامل ہیں ۔
ڈاکو علی گل تیغانی کی سر قیمت 50لاکھ، عبدالرحمن تیغانی کی سر قیمت 20 لاکھ مقرر تھی ۔
ڈاکو منظور جعفری کے سر پر 20 لاکھ انعام اور سلطان بجارانی کے سر قیمت 20 لاکھ اور عبدالرحمٰن سبزروئی پر 5لاکھ روپے انعام مقرر تھا۔
سرینڈر کے موقع پر بیلو تیغانی نے کہا کہ سندھ حکومت کی سرینڈر پالیسی کے تحت سہولت ملنے پر ایس ایس پی کلیم کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کیا۔
سرینڈر کرنے والے تمام ملزمان اپنے خلاف درج مقدمات کا عدالتوں میں سامنا کریں گے۔
سندھ حکومت کی سرینڈر پالیسی کے تحت ملزمان قانون کی راہ اختیار کر رہے ہیں اور اب تک 60 ملزمان سرینڈر کر چکے ہیں۔
سندھ حکومت کی سرنڈر پالیسی کے تحت جو بھی جرائم پیشہ عناصر پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال کر سرنڈر کریں گے، ان کے ساتھ قانون اور ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
جو عناصر اس پالیسی سرنڈر سے گریز کریں گے، ان کے خلاف سندھ پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور تمام انٹیلیجنس ایجنسیاں مشترکہ طور پر کارروائیاں جاری رکھیں گی۔
ترجمان
ایس ایس پی ضلع شکارپور
