• مسلسل التوا اور ٹال مٹول:فلسطین فٹ بال ایسوسی ایشن (پی ایف اے)کی جانب سے اسرائیلی فٹ بال ایسوسی ایشن (آئی ایف اے)کی معطلی کے مطالبات کو بار بار موخر کیا گیا۔ فیفا نے کوئی بھی ٹھوس فیصلہ لینے کے بجائے معاملے کو مبینہ "آزاد قانونی پینلز” کے سپرد کر کے وقت گزاری کی۔
• غیر قانونی بستیوں میں کلبوں کی شمولیت:مقبوضہ مغربی کنارے میں بین الاقوامی قوانین کے خلاف قائم اسرائیلی بستیوں میں موجود فٹ بال کلبوں کو اسرائیلی لیگ کا حصہ بننے دیا گیا، جس پر فیفا نے پی ایف اے کے قانونی اعتراضات کے باوجود خاموشی برقرار رکھی۔
• قانونی پیچیدگی کا لبادہ:فیفا نے اسرائیل پر پابندی لگانے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ بین الاقوامی عوامی قانون کے تحت ان علاقوں کی قانونی حیثیت "انتہائی پیچیدہ” ہے، حالانکہ روس کے معاملے میں ایسی کسی پیچیدگی کو رکاوٹ نہیں بننے دیا گیا۔
روس پر فوری پابندیوں اور اسرائیل کے خلاف برسوں کی خاموشی نے فیفا کی دوغلی پالیسی یا ” ڈبل اسٹینڈرڈز” کو پوری دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔
فیفا ایک ‘سیاسی آلہ کار’
عالمی اداروں کو ان کے تیار کردہ (مینوفیکچرڈ)بیانیہ سے نکال کر جوابدہ بنانا دانشورانہ تنقید کا بنیادی مقصد ہے۔ سیاسی تجزیہ نگار زیویئر ابو عید نے ’الجزیرہ‘ کے لیے اپنے تجزیے میں فیفا کو ایک آزاد تنظیم کے بجائے ایک "سیاسی آلہ کار” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فیفا محض طاقتور ممالک کی خارجہ پالیسی کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے۔ ان کے الفاظ میں "فیفا ایک آزاد کھیلوں کی تنظیم نہیں ہے؛ بلکہ یہ ایک سیاسی آلہ ہے۔” وہ فیفا کی قیادت، بالخصوص گیانی انفنٹینو پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پردہ ڈال کر انہیں "پاک صاف ظاہر کرنے” (وائٹ واشنگ) کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک فیفا کی مجرمانہ خاموشی درج ذیل نکات سے واضح ہوتی ہے:
