
گھوٹکی/اوباڑو: اوباڑو سول کورٹ میں عدالتی پیشی کے لیے لائے گئے دو مبینہ ڈاکو راحب شر اور موریو شر پولیس کی سکیورٹی سے فرار ہوگئے، واقعے کے بعد پولیس اور جیل انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی جبکہ فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ڈسٹرکٹ جیل سے مجموعی طور پر 20 قیدیوں کو اوباڑو سول کورٹ میں پیشی کے لیے لایا گیا تھا۔ عدالتی کارروائی کے دوران دو مبینہ ڈاکو راحب شر اور موریو شر سکیورٹی حصار سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
پولیس حکام کے مطابق دونوں ملزمان کو تقریباً تین ماہ قبل رونتی کے کچے کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ فرار ہونے والے ملزمان میں شامل راحب شر کو انتہائی خطرناک ملزم قرار دیا گیا ہے اور اس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر تھی۔

واقعے کے فوراً بعد پولیس نے علاقے کی ناکہ بندی کرتے ہوئے فرار ملزمان کی تلاش شروع کردی۔ اطراف کے علاقوں، کچے کی جانب جانے والے راستوں اور ممکنہ پناہ گاہوں کی نگرانی بھی سخت کردی گئی ہے۔
سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کے خلاف کارروائی
واقعے کے بعد سکیورٹی میں غفلت کے معاملے پر محکمہ پولیس نے سخت کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ پولیس کے مطابق ڈسٹرکٹ جیل کے 10 سے زائد اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ عدالتی پیشی کے دوران سکیورٹی پر مامور اہلکاروں سے بھی پوچھ گچھ جاری ہے۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سکیورٹی پر مامور 12 سے زائد پولیس افسران اور اہلکاروں کو معطل کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔
آئی جی سندھ کے مطابق فرار ہونے والے دونوں ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی کارروائی جاری ہے، جبکہ سکیورٹی پر مامور پولیس ٹیم کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غفلت کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور گرفتاریاں بھی کی جائیں گی۔
علاقے میں سرچ آپریشن تیز
دونوں ملزمان کے فرار ہونے کے بعد گھوٹکی پولیس نے مختلف مقامات پر ناکہ بندی اور سرچ آپریشن مزید سخت کردیا ہے۔ پولیس کی جانب سے فرار ملزمان کے ممکنہ ٹھکانوں اور رابطوں کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔
واقعے نے عدالتی پیشیوں کے دوران قیدیوں کی سکیورٹی کے انتظامات پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ راحب شر اور موریو شر کی گرفتاری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور انہیں جلد دوبارہ گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

