تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1947ء کے بعد وکالت کے شعبے میں قدم رکھا اور خصوصاً فوجداری مقدمات میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا۔ وہ غریب اور نادار افراد کے مقدمات بلا معاوضہ لڑتے تھے اور ہمیشہ انصاف کی سربلندی کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کی مہمان نوازی، سادگی، دیانت داری اور صاف کردار ہر خاص و عام میں مشہور تھا۔
کامریڈ تاج محمد بنیادی طور پر سوشلسٹ نظریات کے حامی تھے اور عوامی حقوق کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتے رہے۔ ان کے سیاسی دور میں سندھ کی کئی اہم شخصیات، جن میں ذوالفقار علی بھٹو سمیت دیگر رہنما شامل تھے، ان سے قریبی تعلق رکھتے تھے۔
مارچ 1986ء میں ان کا انتقال ہوا، لیکن آج بھی ان کے دوست، ساتھی اور عوام انہیں محبت اور احترام سے یاد کرتے ہیں۔ ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ سچی خدمت، قربانی اور اصول پسندی انسان کو ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔
معروف مصنف عبدالقادر نے بھی اپنی تحریروں میں کامریڈ تاج محمد کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ ایسے لوگ تاریخ میں ہمیشہ روشن کردار کے طور پر یاد رکھے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ذات سے بڑھ کر وطن، سندھ اور عوام کی بھلائی کو مقدم رکھا۔
کامریڈ تاج محمد کی زندگی نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ قوموں کی تعمیر صرف قربانی، دیانت داری، اخلاص اور عوامی خدمت سے ممکن ہے

کامریڈ تاج محمد ابڑو
