مرحوم فوجی کے صاحبزادے سلام مہر پریس کلب پہنچے، جہاں انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد نے اپنی زندگی پاکستان کی خدمت میں گزاری، مگر آج ان کی وفات کے بعد ان کے اہلِ خانہ اپنے ہی گاؤں میں بے یار و مددگار ہو کر رہ گئے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے بااثر رشتہ دار، جن میں خلیفہ اسماعیل مہر، غلام یاسین مہر، غلام قادر مہر اور دیگر شامل ہیں، مبینہ طور پر انہیں مسلسل ظلم و ستم، ہراسانی اور مختلف مشکلات کا نشانہ بنا رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا خاندان شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار ہے۔
سلام مہر کا کہنا تھا کہ مشکل کی اس گھڑی میں نہ کسی بااثر شخصیت نے ان کی مدد کی اور نہ ہی کسی نے ان کی داد رسی کی، جس کے باعث وہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے شخص کے خاندان کے ساتھ یہ سلوک انتہائی افسوسناک ہے جس نے اپنی پوری زندگی وطن کے دفاع کے لیے وقف کر دی۔
انہوں نے پاک فوج کی اعلیٰ قیادت، بالخصوص آرمی چیف اور کور کمانڈر سے اپیل کی کہ ایک سابق مجاہد سپاہی کے اہلِ خانہ کو تنہا نہ چھوڑا جائے اور انہیں تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔
سلام مہر نے فرگاہ شریف کے خلفاء، علاقے کے معززین، سماجی شخصیات اور نیک دل افراد سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنا مثبت کردار ادا کریں، بااثر افراد کے مبینہ ظلم و زیادتی کو رکوانے میں مدد کریں اور مظلوم خاندان کی داد رسی کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے آخر میں ایس ایس پی گھوٹکی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات کرائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ ملک کے ایک سابق محافظ کے اہلِ خانہ کو انصاف مل سکے

ضلع گھوٹکی کی تحصیل ڈہرکی کے گاؤں حاجی ستابو مہر، دیہہ چناٸند کے رہائشی مرحوم فوجی سرہو فقیر مہر، جنہوں نے مجاہد فورس کے سپاہی کی حیثیت سے اپنی پوری زندگی ملک و قوم کی خدمت اور دفاعِ وطن کے لیے وقف کیے رکھی، ان کے اہلِ خانہ نے بااثر افراد پر مبینہ ظلم، ناانصافی اور ہراسانی کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انصاف کی اپیل کی ہے
