
امریکی فری لانس صحافی Shelly Kittleson کو منگل کے روز Baghdad میں اغوا کر لیا گیا، جس کی تصدیق عراقی وزارتِ داخلہ نے کی ہے۔ وزارت کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے اغوا کاروں کی تلاش کے لیے فوری کارروائی شروع کر دی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک مشتبہ گاڑی کو روکنے کی کوشش کی گئی جو فرار کے دوران الٹ گئی، تاہم اس میں صحافی موجود نہیں تھیں۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق انہیں سعدون اسٹریٹ پر واقع Baghdad Hotel کے قریب سے اغوا کیا گیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق عراقی حکام نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا ہے جس کے تعلقات ایران نواز ملیشیا Kataib Hezbollah سے بتائے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام نے اپنے شہریوں، خصوصاً صحافیوں کو سفری ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی تاکید کی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیدار Dylan Johnson نے کہا کہ حکومت اس واقعے سے آگاہ ہے اور ایف بی آئی کے ساتھ مل کر جلد از جلد رہائی کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صحافی کو پہلے ہی خطرات کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔
یہ واقعہ اس سے قبل روسی-اسرائیلی محققہ Elizabeth Tsurkov کے اغوا کی یاد دلاتا ہے، جنہیں 2023 میں بغداد سے اغوا کیا گیا تھا اور طویل عرصے بعد ایک معاہدے کے تحت رہا کیا گیا تھا۔
Shelly Kittleson ایک تجربہ کار صحافی ہیں جو افغانستان، عراق اور شام جیسے جنگ زدہ علاقوں میں اپنی جرات مندانہ رپورٹنگ کے لیے جانی جاتی ہیں۔ وہ مختلف بین الاقوامی اداروں بشمول Al-Monitor کے ساتھ بھی کام کر چکی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق حکومت عراق کے ساتھ مل کر ان کی محفوظ بازیابی کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
