پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی توسیع اور اسے زیادہ منظم، خودمختار اور خصوصی نوعیت کی فورس بنانے کے عمل کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ایک ہزار نئی آسامیوں کی منظوری دے دی ہے۔
اس منصوبے کے تحت سی سی ڈی اہلکاروں کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے ایس ایس جی پس منظر رکھنے والے ریٹائرڈ کمانڈوز کو بطور انسٹریکٹرز لانے کا فیصلہ بھی کیا گیاہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت پہلے ہی سی سی ڈی کو ایک معیاری جرائم تحقیقاتی ایجنسی میں تبدیل کرنے کا اعلان کر چکی ہے، جس کے تحت اس کے لیے الگ دفاتر، تھانے اور دیگر ڈھانچے قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
اردو نیوز کو دستیاب کابینہ دستاویزات کے مطابق پنجاب سی سی ڈی کے قیام کے وقت اس کے لیے مجموعی طور پر سات ہزار 486 افسران و اہلکاروں کی نفری منظور کی گئی تھی۔ اس میں تین ہزار 904 نئی آسامیاں شامل تھیں، جبکہ تین ہزار 582 نفری پنجاب پولیس کے موجودہ وسائل سے فراہم کی گئی۔ تاہم محکمہ پولیس پہلے ہی دیگر نئی یونٹس کو افرادی قوت دے چکا ہے، اس لیے مزید نفری پولیس کے موجودہ ڈھانچے سے منتقل کرنا ممکن نہیں رہا، جس کے بعد ایک ہزار مزید نئی آسامیوں کی سمری کابینہ میں پیش کی گئی۔
دستاویزات کے مطابق ان ایک ہزار نئی آسامیوں کے لیے ماہانہ مالی بوجھ تقریبا 10 کروڑ روپے بتایا گیا ہے جبکہ رواں مالی سال 2025-26 میں پانچ ماہ کی تنخواہوں اور الاؤنسز کے لیے 50 کروڑ روپے جاری کرنے کی بھی منظوری مانگی گئی۔
کابینہ نے اس تجویز کی باقاعدہ منظوری دے دی۔ ان آسامیوں میں مختلف رینکس شامل ہیں تاہم بھرتی کے فوری مرحلے میں 560 اہلکاروں کی بھرتی کی اجازت مانگی گئی، جن میں 460 کانسٹیبل اور 100 ڈرائیور کانسٹیبل شامل ہیں۔
اس توسیعی منصوبے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ سی سی ڈی کو محض ایک آپریشنل فورس کے بجائے ایک مستقل، الگ شناخت رکھنے والے ادارے کے طور پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔
سرکاری سطح پر چند روز پہلے ہونے والے اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سی سی ڈی کو صوبے کی ایک نمایاں جرائم تحقیقاتی ایجنسی میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسی اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ صوبے کے ڈویژن، ضلع اور تحصیل کی سطح پر سی سی ڈی کے دفاتر، پولیس سٹیشنز اور رہائشی سہولتیں قائم کی جائیں گی، جبکہ ادارے کے ہیڈکوارٹر کو بھی جدید سہولتوں سے آراستہ کیا جائے گا۔
حکومتی حکمت عملی کو دیکھتے ہوئے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ سی سی ڈی کو روایتی پولیسنگ کے بجائے ایک زیادہ جارحانہ، خصوصی اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کام کرنے والی فورس کے طور پر وسعت دی جا رہی ہے۔
کابینہ دستاویز میں بھی محکمہ داخلہ اور پولیس قیادت نے مؤقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی نے اپریل 2025 میں قیام کے بعد ’پروایکٹو، ٹارگٹڈ اور انٹیلی جنس ڈرِوَن‘ ماڈل اختیار کیا، جس کے نتیجے میں سنگین جرائم میں نمایاں کمی آئی۔

دستاویز کے مطابق سنہ2024 کے اسی عرصے کے مقابلے میں سنہ2025 میں ڈکیتی، رابری، ہاؤس رابری، کار و موٹر سائیکل سنیچنگ، کار و موٹر سائیکل چوری اور ڈکیتی مع قتل جیسے جرائم میں 36 فیصد سے 64 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔
اسی تناظر میں سی سی ڈی کی تربیت، ڈسپلن اور آپریشنل استعداد کو بھی غیر معمولی سطح پر لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
نئے مرحلے میں اہلکاروں کو کمانڈو طرز کی تربیت دینے کے لیے ایس ایس جی پس منظر کے ریٹائرڈ کمانڈوز کو انسٹرکٹرز کے طور پر استعمال کرنے کی تجویز زیر عمل ہے، تاکہ فورس کو ایک خصوصی معیار کے مطابق تیار کیا جا سکے۔
اس پیش رفت کو سی سی ڈی کی محض عددی توسیع نہیں بلکہ اس کی ساختی اور عملی ری انجینئرنگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ نئی آسامیوں سے متعلق سرکاری مؤقف میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ نفری محکمہ پولیس کے موجودہ ڈھانچے سے مزید نہیں لی جا سکتی۔ اس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ حکومت سی سی ڈی کو بتدریج پنجاب پولیس کے اندر ایک علیحدہ اور مخصوص مہارت رکھنے والے بازو کے طور پر استحکام دینا چاہتی ہے، بجائے اس کے کہ اسے صرف تبادلوں یا عارضی ڈیپوٹیشن کے ذریعے چلایا جائے۔
سی سی ڈی کی یہ توسیع ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اس ادارے پر سخت سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے اپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں الزام عائد کیا کہ اپریل سے دسمبر 2025 کے درمیان سی سی ڈی کی کارروائیوں میں 670 مبینہ پولیس مقابلوں کے نتیجے میں 924 افراد مارے گئے۔
الجزیرہ سمیت بین الاقوامی میڈیا نے بھی ان الزامات کو نمایاں انداز میں رپورٹ کیا۔ دوسری جانب پنجاب پولیس اور سی سی ڈی نے ماورائے عدالت ہلاکتوں اور جعلی مقابلوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ جرائم میں نمایاں کمی ادارے کی کارکردگی کا ثبوت ہے۔

