پاکستان، ایران کی جنگ کے تناظر اور خطے میں کشیدگی کم کرانے کے لیے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اتوار اور پیر کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ چار مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ جہاں ایران کی جنگ اور خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کریں گے۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کو مذاکرات کی دعوت نے دی ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق ’سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان اور مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی 29 سے 30 مارچ 2026 تک اسلام آباد کا سرکاری دورہ کریں گے۔‘
’اس دورے کے دوران پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں سمیت مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔‘
دفتر خارجہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ’تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات بھی متوقع ہے۔‘
اے ایف پی کے حوالے سے ایک ذریعے نے بتایا کہ چار ممالک کا مشترکہ اجلاس پیر کو متوقع ہے، جبکہ وفود اتوار کی شام تک اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔
پاکستان نے حالیہ عرصے کے دوران خود کو ایران اور امریکہ کے درمیان ایک سفارتی ثالث کے طور پر پیش کیا ہے، کیونکہ پاکستان کے ایران کے ساتھ پرانے تعلقات ہیں جبکہ خلیجی ممالک کے ساتھ بھی قریبی روابط ہیں، اسی لیے پاکستان اس تنازعے میں سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

