مملکت کے وژن 2030 کے تحت ریئل اسٹیٹ کے اہداف کو تیزی سے حاصل کیا جا رہا ہے وہیں شہری منصوبہ بندی کے ساتھ ملاپ کر کے سمندی حیات کے تحفظ کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق جدہ کے بحیرۂ احمر کے ساحل پر ڈیویلپرز اپنے آنے والے نئے پروجیکٹس کے ساتھ جدید حکمت عملی بنا رہے ہیں جو سیاحت، معیشت کی بحالی اور سمندری حیات کے ایکوسسٹم کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔
وژن 2030 کے تحت نیشنل ریڈ سی سسٹینیبیلیٹی سٹریٹیجی کے فریم ورک کے مطابق سمندری حیات اور ریئل اسٹیٹ کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔
سمندری حیات اور کوسٹل ایکوسسٹم کی ماہر ڈاکٹر طیبہ العمود نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے ان ترقیاتی منصوبوں میں مونگے کی چٹانوں کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ’مونگے کی چٹانیں ناقابلِ متبادل قدرتی ڈھانچہ ہیں جو دنیا کے قدیم ترین اور متنوع ماحولیاتی نظاموں میں شامل ہیں۔ کسی بھی ساحلی ترقی کے لیے صحت مند چٹان ضروری ہے۔ اگر اسے نقصان پہنچا، تو آپ پیداوار اور تحفظ دونوں کھو دیتے ہیں۔‘
ڈیویلپرز یہ بات سمجھتے ہیں کہ کورل رِیفس (مونگے کی چٹانیں) ماحولیاتی طور پر منفرد ہوتے ہیں اور ساحلی ریئل اسٹیٹ کے پورٹ فولیو کو مضبوط کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں شمالی جدہ کا الما ڈیسٹینیشن 3.12 ملین سکوائر میٹر واٹرفرنٹ ڈیویلپمنٹ پروجیکت ہے جو سمندری حیات کا شہری مںصوبہ ہے۔
الما نے اپنی ڈیویلپمنٹ میں سمندری حیات کی پائیداری کو ترجیح دی ہے جس میں اُن کی کورل رِیفس کے متعلق حکمت عملی بھی شامل ہے۔
الما نہروں کے نیٹ ورک پر بھی کام کرتا ہے جو پانی کے بہاؤ کے لیے قدرتی لہروں کی نقل و حرکت پر منحصر ہے۔

الما ایک ایسی مثال ہے جو مملکت میں سائنسی بنیادوں پر ریئل اسٹیٹ کی ترقی کے بڑے پیمانے پر رحجان کو نمایاں کرتا ہے۔
کوسٹ بیکن ڈیویلپمنٹ کے سینیئر اوشیناگرافر میتھیوس پائوا نے عرب نیوز کو بتایا کہ سائنسی بنیادوں پر کیلکولیشنز اور مںصوبہ بندی بحیرۂ احمر جیسے مقام کے لیے بے حد ضروری ہیں۔
ڈویلپرز کا ماہرین سے مشاورت کے ذریعے بحری زندگی کو سمجھنا ایک بنیادی کردار ادا کرتا ہے، تاکہ مملکت کے وژن 2030 کے تحت پائیداری کے اہداف کو مکمل احتیاط اور محنت کے ساتھ حاصل کیا جا سکے۔

