الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما مراد سعید کو سینیٹ کی نشست سے نااہل قرار دیا ہے۔
جمعرات کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ مراد سعید کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 63 (1) (ایچ) کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے میں راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے سات مارچ 2026 کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے تحت مراد سعید کو 10 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
الیکشن کمیشن نے اسی عدالتی فیصلے کی بنیاد پر انہیں نااہل قرار دیتے ہوئے سینیٹ کی نشست سے ڈی نوٹیفائی کر دیا ہے، جس کے بعد ان کی رکنیت ختم ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ مراد سعید 24 جولائی 2025 کے نوٹیفکیشن کے تحت صوبہ خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی جنرل نشست پر کامیاب قرار دیے گئے تھے۔
الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے نتیجے میں ان کی نشست خالی قرار دے دی گئی ہے، جس پر اب ضمنی انتخاب منعقد ہو گا۔
الیکشن کمیشن نے یہ نوٹیفکیشن پاکستان گزٹ میں شائع کرنے کے لیے بھیج دیا ہے، جبکہ اس کی نقول ایوانِ صدر، وزیراعظم سیکریٹریٹ، سینیٹ سیکریٹریٹ اور خیبر پختونخوا کے الیکشن حکام کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں۔
اس سے قبل مراد سعید نے فروری 2026 میں سینیٹ سے استعفیٰ دینے کا بھی اعلان کیا تھا۔
مراد سعید سابق وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی اور پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما ہیں، جو 9 مئی 2023 کے واقعات اور جو عمران خان کی گرفتاری کے بعد سے منظرِ عام پر نہیں آئے اور ان کے موجودہ مقام کے حوالے سے کوئی مصدقہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
تاہم ان کی جانب سے سوشل میڈیا پر مختلف بیانات اور پیغامات سامنے آتے رہتے ہیں، جبکہ حال ہی میں انہوں نے ایک کتاب بھی شائع کی ہے۔

