ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ پیر کی صبح تہران میں شدید دھماکے سنے گئے ہیں جبکہ اسرائیل کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ اس نے فضائی حملوں کی نئی مہم شروع کر دی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لوکل میڈیا پلیٹ فارم مہر کی جانب سے ٹیلی گرام پر کی گئی ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ’تہران میں دھماکے سنے گئے ہیں‘ جبکہ فارس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے دارالحکومت میں پانچ مقامات کو فضائی حملوں نشانہ بنایا گیا ہے اور شہر میں دھماکوں کی شدید آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔‘
شہر میں موجود اے ایف پی سے وابستہ ایک صحافی کا کہنا ہے کہ دھماکوں کی آوازوں کو ایک گھنٹہ گزر جانے کے بعد بھی شہر میں ایک مقام سے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے ٹیلی گرام پر کی گئی ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ’تہران میں ایران کی دہشت گرد حکومت کے بنیادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنے کے لیے وسیع پیمانے پر حملوں کی لہر شروع کر دی ہے۔‘
خیال رہے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا جس میں وہاں کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت کئی اہم حکومتی و فوجی شخصیات ہلاک ہوئیں، اس کے جواب میں ایران بھی حملوں کا سلسلہ شروع کیا اور جنگ ابھی تک جاری ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ خلیجی ممالک میں امریکہ کے اثاثوں کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ اس کی جانب سے اسرائیل کے شہروں پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔
اس جنگ کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کا شدید بحران بھی پیدا ہوا ہے کیونکہ ایک تو خلیجی ممالک پر حملے ہو رہے ہیں اور دوسرا ایران نے آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا ہے جو کہ تیل کی تجارت کے لحاظ بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

