امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایک ’قابل احترام‘ ایرانی رہنما کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے اور دعویٰ کیا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے ایران کے لیے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی ڈیڈ لائن میں مزید پانچ دن کی توسیع بھی کر دی بصورت دیگر اس کے بجلی گھروں پر حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ کے اس اچانک مؤقف کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی اور سٹاک مارکیٹ میں ہلچل دیکھنے میں آئی۔ یہ پیش رفت اس کشیدگی کے بعد سامنے آئی جب ہفتے کے اختتام پر امریکہ اور ایران کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ ہوا تھا جس سے ایران اور خلیجی خطے میں لاکھوں افراد کی بجلی کی فراہمی متاثر ہونے اور پانی کی قلت کے خدشات پیدا ہو گئے تھ، کیونکہ ان علاقوں میں پینے کے پانی کا انحصار ڈی سیلینیشن پلانٹس پر ہے۔
پیر کو صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران ’معاہدہ کرنا چاہتا ہے‘۔ انہوں نےدعویٰ کیا کہ امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے اتوار کے روز ایک ایرانی رہنما سے بات چیت کی۔ تاہم انہوں نے اس رہنما کی شناخت ظاہر نہیں کی البتہ یہ واضح کیا کہ امریکہ نے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
دوسری جانب ایران نے کسی بھی قسم کی بات چیت کی تردید کی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر بیان میں کہا کہ ’امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے‘، اور مزید کہا کہ ’جعلی خبروں کے ذریعے مالیاتی اور تیل کی منڈیوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کے ایران کے ساتھ مفید اور نتیجہ خیز مذاکرات ہوئے ہیں اور وہ فوج کو ہدایت دیں گے کہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کے ڈھانچے کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔
ٹرمپ کا یہ اقدام ایران کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر امریکہ ایران کے بجلی کے نظام کو نشانہ بناتا ہے تو وہ اسرائیل کے بجلی گھروں اور خلیجی خطے میں امریکی اڈوں کو توانائی فراہم کرنے والے مراکز پر حملہ کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت پورے ہفتے جاری رہے گی۔ انہوں نے لکھا:’میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہر قسم کی فوجی کارروائی کو پانچ دن کے لیے مؤخر رکھا جائے بشرطیکہ جاری ملاقاتوں اور مذاکرات میں پیش رفت ہوتی رہے۔‘
صدر ٹرمپ نے انگریزی کے بڑے حروف میں تحریر کیے گئے پیغام میں کہا انہوں نے محکمہ دفاع کو ہدایت دی ہے کہ جاری مذاکرات کے نتائج سامنے آنے تک حملوں کو مؤخر رکھا جائے۔
’تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہو رہی‘
دوسری جانب ایران کی خبر رساں ایجنسی فارس نے ایک ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ نہ براہِ راست اور نہ ہی کسی ثالث کے ذریعے کوئی رابطہ ہو رہا ہے۔
ایرانی میڈیا نے پیر کو رپورٹ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے اعلان کے باوجود تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔
خبر رساں ادارے مہر نے ایرانی وزارت خارجہ کے حوالے سے کہا کہ ’تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے‘، اور یہ کہ ٹرمپ کے بیانات ’توانائی کی قیمتوں میں کمی لانے کی کوشش‘ کا حصہ ہیں۔
دیگر ذرائع ابلاغ نے بھی اسی نوعیت کی رپورٹس نشر کیں۔
خبررساں ادارے مہر نے وزارت خارجہ کے حوالے سے مزید کہا کہ ’ٹرمپ کے ریمارکس کا مقصد توانائی کی قیمتیں کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ’کشیدگی کم کرنے کے لیے کچھ اقدامات زیر غور ہیں، تاہم ہمارا مؤقف یہ ہے کہ امریکہ کو ہی فریق گفتگو ہونا چاہیے کیونکہ جنگ کا آغاز ہم نے نہیں کیا۔‘
برینٹ خام تیل کے عالمی معیار کی قیمت گر کر تقریباً 7 فیصد کم ہو کر 1127 جی ایم ٹی پر قریب 104 ڈالر رہ گئی۔
سنیچر کے روز صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر تہران 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو تمام بحری آمد و رفت کے لیے ’مکمل طور پر کھولنے‘ میں ناکام رہا تو ایرانی بجلی گھر تباہ کر دیے جائیں گے۔ صدر ٹرمپ نے اس کے لیے پیر کو مشرقی امریکی وقت کے مطابق شام تقریباً 7 بج کر 44 منٹ (2344 جی ایم ٹی) کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی۔

ان کے بیانات کے بعد ایران کی پاسداران انقلاب کی جانب سے جوابی کارروائی کی دھمکیاں سامنے آئیں، جنہوں نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ اگر ٹرمپ نے ایران کے بجلی کے نظام کو ’صفحۂ ہستی سے مٹانے‘ کی اپنی دھمکی پر عمل کیا تو وہ اسرائیل کے بجلی گھروں اور خلیجی خطے میں امریکی اڈوں کو توانائی فراہم کرنے والے مراکز کو نشانہ بنائیں گے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ میں اب تک 2,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جس نے منڈیوں کو تہہ و بالا کر دیا، ایندھن کی قیمتیں بڑھا دیں، عالمی مہنگائی کے خدشات کو ہوا دی اور جنگ کے بعد قائم مغربی اتحاد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
خلیجی خطے کے بجلی کے نظام پر ممکنہ حملوں کی دھمکی نے پینے کے پانی کے لیے نمکین پانی کو قابل استعمال بنانے کے عمل میں بڑے پیمانے پر خلل کے خدشات کو جنم دیا ہے جبکہ تیل کی منڈیوں میں بھی مزید بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔
