بی سی سی آئی سکریٹری دیوجیت سیکیا نے ہرمن پریت بریگیڈ کے فیصلہ پر کہا کہ ایسا کر انھوں نے مینس ٹیم کے رخ کے ساتھ اپنی یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔


i
’خواتین ایشیا کپ 2026‘ کے فائنل میں سری لنکا کو 72 رنز سے شکست دے کر ریکارڈ آٹھویں بار چیمپئن بننے کے بعد دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ایک بڑا ڈرامہ دیکھنے کو ملا۔ میچ کے بعد ایوارڈ تقریب کے دوران ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم نے ایشیا کپ کی فاتح ٹرافی ’ایشین کرکٹ کونسل‘ (اے سی سی) کے صدر اور پاکستان حکومت کے وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہاتھوں سے لینے سے صاف انکار کر دیا۔ ہرمن پریت بریگیڈ کے اس قدم کے باعث نقوی کو ایک بار پھر اسٹیج پر فضیحت کا سامنا کرنا پڑا۔
میچ سے قبل ہی اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اگر ہندوستان فتحیاب ہوتا ہے تو محسن نقوی سے ٹرافی لینے کو لے کر تنازعہ کھڑا ہو سکتا ہے۔ گزشتہ سال مردوں کے ایشیا کپ فائنل میں ہندوستان نے پاکستان کو 5 وکٹ سے شکست دی تھی۔ اس دوران بھی سوریہ کمار یادو کی قیادت والی ہندوستانی ٹیم نے محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کر دیا تھا اور آخر میں ہندوستانی ٹیم نے صرف چیمپئنز کے بینر کے ساتھ اور ٹرافی کے بغیر جشن منایا تھا۔ ’خواتین ایشیا کپ 2026‘ کے فائنل کے بعد بھی ہرمن پریت کور اور ہندوستانی ٹیم نے وہی موقف برقرار رکھا۔ پروٹوکول کے تحت نقوی کو چیف گیسٹ کی حیثیت سے ٹرافی پیش کرنی تھی، لیکن ہندوستانی ٹیم کے سخت موقف کے باعث وہ ٹرافی پیش نہیں کر سکے۔ ایوارڈ تقریب کے دوران محسن نقوی اسٹیج پر کھڑے رہے، لیکن ہندوستانی کپتان ہرمن پریت کور اور کھلاڑیوں نے ان کے ہاتھ سے ایوارڈ لینے سے مکمل طور پر گریز کیا۔ نتیجۂ کار رنر اَپ کھلاڑیوں کو تمغے دیے گئے اور اس کے بعد ایوارڈ تقریب ختم کر دی گئی۔
ہندوستانی خواتین ٹیم کے اس قدم پر اب بی سی سی آئی کی جانب سے وضاحتی بیان بھی سامنے آ گیا ہے۔ دبئی میں بی سی سی آئی کے سکریٹری دیوجیت سیکیا نے ہرمن پریت کور اور ان کی ٹیم کے فیصلے پر کہا کہ ایسا کر کے انہوں نے مردوں کی ٹیم کے موقف کے ساتھ اپنی یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’2025 میں ہوئے پہلگام دہشت گردانہ حملہ کے بعد ہم پر اپنے ملک کے شہریوں کا دباؤ تھا کہ ہم اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھیں۔ ہم ان کے ساتھ کرکٹ بھی نہ کھیلیں۔ تاہم، ہمارے ملک کی حکومت نے کثیر ملکی ٹورنامنٹ میں ان کے ساتھ کھیلنے کی منظوری دی۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ہر شرط کو مانیں گے۔‘‘
دیوجیت سیکیا نے کہا کہ محسن نقوی اے سی سی کے صدر ہونے کے علاوہ پی سی بی کے چیئرمین بھی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان حکومت میں وزیر بھی ہیں۔ ایسے میں ہم ان سے ٹرافی نہیں لے سکتے۔ خواتین ٹیم نے اپنے فیصلے سے ثابت کیا ہے کہ وہ ہندوستانی مردوں کی ٹیم کے موقف کے ساتھ ہے۔ ہمیں کوئی ملال نہیں ہے۔ ہمارا اصل مقصد ٹرافی حاصل کرنا نہیں بلکہ ہندوستانی ٹیم کی جیت ہے اور اسے ہم حاصل کر رہے ہیں۔
دیوجیت سیکیا سے قبل ہندوستانی خواتین ٹیم کے کوچ امول مجومدار نے بھی پریس کانفرنس میں ٹرافی نہ لینے کے تنازعہ پر خاموشی توڑتے ہوئے اپنی طرف سے صفائی پیش کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’یہ فیصلہ بی سی سی آئی نے لیا ہے اور ہم بورڈ کے ساتھ ہیں۔‘‘ مجومدار نے مزید کہا کہ ہمارے لیے ٹورنامنٹ ختم ہو چکا ہے اور ہم چمپئن بنے ہیں، اتنا ہی کافی ہے۔ یہ ریکارڈ میں درج ہو چکا ہے کہ ہندوستانی خواتین ٹیم ’ایشیا کپ 2026‘ کی چمپئن ہے۔ ہم اتنے سے خوش ہیں اور اب ہماری تمام توجہ ایشیائی کھیلوں پر ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

