18.5 بلین ڈالر مالیت والی آئی پی ایل کو دنیا کی سب سے امیر ترین کرکٹ لیگ مانا جاتا ہے اور بنگلہ دیش میں اس کے مداحوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔


i
بنگلہ دیش میں انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کی براہ راست نشریات پر روک لگا دی گئی ہے۔ ہندوستان کے جیو اسٹار نے بنگلہ دیش میں اپنا آئی پی ایل براڈکاسٹنگ معاہدہ ختم کر دیا ہے، جس سے ملک میں 2026 کا سیزن ٹیلی کاسٹ کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب حال ہی میں بنگلہ دیش حکومت کی جانب سے رویے میں نرمی کے اشارے ملے تھے۔ اس فیصلے سے بنگلہ دیش کرکٹ شائقین کو بڑا جھٹکا لگا ہے، جہاں آئی پی ایل کی زبردست مقبولیت ہے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل بنگلہ دیشی افسران نے آئی پی ایل کی نشریات پر عائد کی گئی پرانی پابندی پر دوبارہ غور کرنے کے اشارے دیے تھے، لیکن جیو اسٹار نے ہی اپنے قدم واپس کھینچ لیے۔ ’رائٹرس‘ کے مطابق جیو اسٹار نے بنگلہ دیشی براڈکاسٹر ٹی اسپورٹس کو بھیجے گئے خط میں کہا کہ ’’معاہدہ فوری طور پر ختم کیا جاتا ہے۔‘‘ ٹی اسپورٹس نے 2023 سے 2027 تک آئی پی ایل سیزن کے نشریاتی حقوق سب-لائسنس پر لیے تھے۔ کمپنی نے مزید کہا کہ اس کے شراکت دار کی جانب سے معاہدہ میں طے شدہ ادائیگی کی آخری تاریخ کی مسلسل خلاف ورزی اور ادائیگی میں ناکامی، اس فیصلے کی اہم وجہ رہی۔ یہ فیصلہ ویمنز پریمئر لیگ (ڈبلیو پی ایل) پر بھی نافذ ہوگا۔
حالیہ مہینوں میں ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان خاص طور پر کرکٹ کو لے کر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن آئی پی ایل نشریاتی معاہدہ کا ٹوٹنا بنیادی طور پر تجارتی وجوہات کی وجہ سے مانا جا رہا ہے، نہ کہ سیاسی وجوہات کی بنا پر۔ اس پورے معاملے کے مرکز میں جیو اسٹار اور اس کے بنگلہ دیشی پارٹنر ٹی اسپورٹس کے درمیان تنازعہ رہا۔ ہندوستانی براڈ کاسٹر نے ادائیگی میں کوتاہی کو معاہدہ ختم کرنے کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ بنگلہ دیش میں آئی پی ایل کی نشریات کی پابندی کا مطلب یہ بھی ہے کہ بنگلہ دیش کی وزارت اطلاعات و نشریات نے آئی پی ایل کی نشریات پر عائد پرانی پابندی پر نظر ثانی کے اشارے دیے ہوں۔ فی الحال ٹورنامنٹ دکھانے کے لیے کوئی آفیشل پارٹنر موجود نہیں ہے۔ واضح رہے کہ 18.5 بلین ڈالر مالیت والی آئی پی ایل کو دنیا کی سب سے امیر ترین کرکٹ لیگ مانا جاتا ہے اور بنگلہ دیش میں اس کے مداحوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ ایسے میں مقامی سطح پر نشریات نہ ہونے سے ناظرین کی تعداد اور ’فین انگیجمنٹ‘ پر گہرا اثر پڑنے کی امید ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
