ایران نے پاکستان کے مزید 20 بحری جہازوں کو آبنائے ہُرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔
سنیچر کی رات کو پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک بیان میں کہا کہ ’مجھے یہ اہم خبر شیئر کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ایران کی حکومت نے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 بحری جہازوں کو آبنائے ہُرمز سے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کر لیا ہے؛ دو جہاز روزانہ اس آبنائے کو عبور کریں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ اقدام ایران کی جانب سے ایک خوش آئند اور تعمیری پیش رفت ہے جو قابلِ تحسین ہے۔ یہ امن کی نوید ہے اور خطے میں استحکام کے فروغ میں مددگار ثابت ہو گا۔‘
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ یہ مثبت اعلان امن کی جانب ایک بامعنی قدم کی نشان دہی کرتا ہے اور اس سمت میں ہماری مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنائے گا۔ مکالمہ، سفارت کاری، اور اعتماد سازی کے ایسے اقدامات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔
نائب وزیراعظم کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان، ایران کی جنگ کے تناظر اور خطے میں کشیدگی کم کرانے کے لیے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اتوار اور پیر کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ چار مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ جہاں ایران کی جنگ اور خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کریں گے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق ’سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان اور مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی 29 سے 30 مارچ 2026 تک اسلام آباد کا سرکاری دورہ کریں گے۔‘
’اس دورے کے دوران پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں سمیت مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔‘
I am pleased to share a great news that the Government of Iran has agreed to allow 20 more ships under the Pakistani flag to pass through the Strait of Hormuz; two ships will cross the Strait daily.
This is a welcome and constructive gesture by Iran and deserves appreciation. It…
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) March 28, 2026
خیال رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی جنگ کے پہلے دن ہلاکت کے بعد سے ایران نے آبنائے ہُرمز کو تمام تجارتی سرگرمیوں کے لیے بند کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافہ ہو گیا ہے۔
جنگ شروع ہونے کے بعد سے زیادہ تر جہاز آبنائے ہُرمز سے گزرنے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ ان کو ایران کی جانب سے خطرات کا سامنا ہے۔ انتہائی اہمیت کی حامل اس گزرگاہ سے عالمی سطح پر ہونے والی تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔

