انڈونیشیا نے سنیچر سے اس نئے حکومتی قانون پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی ایک رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد بچوں کو فحش مواد، سائبر بلینگ، آن لائن فراڈ اور سوشل میڈیا کی لت سے بچانا ہے۔
اس قانون کی منظوری رواں ماہ کے اوائل میں دی گئی تھی جس کے بعد انڈونیشیا جنوب مشرقی ایشیا کا وہ پہلا ملک بن گیا ہے جس نے یوٹیوب، ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام، ایکس اور روبلوکس جیسے مقبول پلیٹ فارمز پر بچوں کے اکاؤنٹس بنانے پر پابندی لگائی ہے۔
انڈونیشیا کا یہ فیصلہ آسٹریلیا کے اس نقشِ قدم پر ہے جس نے گزشتہ برس دنیا میں پہلی مرتبہ بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی تھی تاکہ خاندانوں کو ٹیک کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے بچایا جا سکے۔
انڈونیشیا کی وزیر برائے مواصلات اور ڈیجیٹل امور، میوتیا حفید کا کہنا ہے کہ اس قانون کا اطلاق ملک کے قریباً سات کروڑ بچوں پر ہو گا جو مجموعی طور پر 28 کروڑ کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ اگرچہ یہ ایک مشکل مشن ہے لیکن بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے یہ قدم اٹھانا ناگزیر تھا۔
ان کے بقول ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اجنبیوں تک آسان رسائی اور ڈیٹا سیکیورٹی کے خطرات نے بچوں کو انتہائی غیر محفوظ بنا دیا ہے۔
دوسری جانب اس پابندی پر عوامی ردعمل ملا جلا ہے۔ 13 سالہ مورا منتھے جو روزانہ کئی گھنٹے سوشل میڈیا اور گیمز پر گزارتی ہیں، کہتی ہیں کہ انہیں ڈر ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ہونے والی آن لائن تفریح سے محروم ہو جائیں گی تاہم وہ حکومتی فیصلے سے بڑی حد تک متفق ہیں۔
ان کی والدہ لینی سینورایا کا کہنا ہے کہ والدین اب کنٹرول کھو چکے ہیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے بچوں کی زندگیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
وہ کہتی ہیں ’آج کل بچے کھانا نہیں کھاتے جب تک ان کے سامنے فون نہ رکھا جائے، یہ ایک طرح کی لت بن چکی ہے۔‘
ماہرینِ نفسیات اور سماجی کارکنان بھی اس فیصلے کو اہمیت دے رہے ہیں۔
جکارتہ میں بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے کام کرنے والی فاؤنڈیشن ’سیجیوا‘ کی بانی دینا ہریانہ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا بچوں میں ذہنی دباؤ اور بے چینی پیدا کر رہا ہے۔ تاہم وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ڈیجیٹل دنیا سیکھنے کے مواقع بھی فراہم کرتی ہے، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ بچے صحیح عمر میں اور درست رہنمائی کے ساتھ ٹیکنالوجی کا استعمال سیکھیں۔
عالمی سطح پر اس قانون کے حوالے سے ملے جلے اشارے مل رہے ہیں۔
ایلون مسک کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ نے انڈونیشیا کے لیے اپنی پالیسی اپ ڈیٹ کرتے ہوئے صارف کی کم از کم عمر 16 سال مقرر کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ ان کا اپنا انتخاب نہیں بلکہ انڈونیشیائی قانون کا تقاضا ہے۔
یوٹیوب نے بھی حکومت کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انڈونیشیا اور آسٹریلیا کے بعد اب سپین، فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک بھی بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے ضوابط سخت کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

