گوگل نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ’سرچ لائیو‘ کو عالمی سطح پر اُن تمام زبانوں اور مقامات تک وسعت دے رہا ہے جہاں ’اے آئی موڈ‘ دستیاب ہے۔
گوگل کے مطابق اب 200 سے زائد ممالک اور مقامات کے لوگ ’آواز اور کیمرا‘ دونوں کا استعمال کرتے ہوئے اے آئی موڈ میں سرچ کے ساتھ انٹرایکٹو گفتگو کر سکیں گے۔
یہ توسیع گوگل کے نئے ’آڈیو اور وائس ماڈل، جیمی 3.1 فلش لائیو‘ کی بدولت ممکن ہوئی ہے، جو پہلے سے بھی زیادہ انسان کی طرح آسان اور فوری سمجھنے والی گفتگو فراہم کرتا ہے۔
یہ نیا ماڈل بنیادی طور پر کثیر اللسانی ہے، جس کا مطلب ہے کہ اب دنیا بھر کے لوگ اپنی پسندیدہ زبان میں سرچ کرنے کے ساتھ بات چیت بھی کر سکتے ہیں۔
’سرچ لائیو‘ تک زیادہ سے زیادہ لوگوں کی رسائی
’سرچ لائیو‘ کو اُن لمحات کے لیے تیار کیا گیا ہے جب لوگوں کو فوری مدد کی ضرورت ہو اور محض سوال ٹائپ کرنا کافی نہ ہو۔
سرچ کے ساتھ ’لائیو‘ ہونے کے لیے، اپنے اینڈرائیڈ یا آئی او ایس ڈیوائس پر گوگل ایپ کھولیں اور سرچ بار کے نیچے موجود لائیو کے آئیکن پر کلک کریں۔
اس کے بعد آپ کوئی بھی سوال بلند آواز میں پوچھ سکتے ہیں۔ گوگل آپ کو آڈیو جواب فراہم کرے گا اور آپ مزید سوالات کے ذریعے گفتگو جاری رکھ سکتے ہیں یا ویب لنکس کی مدد سے تفصیلات دیکھ سکتے ہیں۔
صارفین اپنے سامنے موجود کسی بھی چیز کے بارے میں سوال کرنے کے لیے کیمرہ آن کر سکتے ہیں، مثلاً اگر وہ دیکھیں کہ شیلف یا الماری کو دیوار پر کیسے لگانا ہے تو وہ اس کے بارے میں گوگل سے براہِ راست مدد حاصل کر سکتے ہیں۔
اس طرح سرچ وہ سب کچھ دیکھ سکتا ہے جو کیمرا دیکھ رہا ہے اور ویب پر موجود معلومات کے لنکس کے ساتھ مفید مشورے بھی فراہم کرتا ہے۔
سرچ لائیوگوگل لینز کے ساتھ بھی کام کرتا ہے۔ بس سکرین کے نیچے موجود لائیو آپشن پر کلک کریں تاکہ آپ براہِ راست اور دو طرفہ گفتگو کر سکیں۔
سرچ لائیو کی یہ عالمی توسیع بتاتی ہے کہ معلومات تک رسائی کا طریقہ بدل رہا ہے۔ اب یہ صرف ایک بار کے سوالات تک محدود نہیں رہا، بلکہ مزید فعال اور مختلف طریقوں سے مدد کرنے والا ہو گیا ہے۔
آواز، کیمرا، اور ویب پر موجود معلومات کو ایک ساتھ استعمال کر کے، گوگل سرچ کو سیکھنے اور تلاش کے لیے ایک زیادہ ذاتی اور کارآمد ٹول بنا رہا ہے۔
گوگل کے مطابق اسے ستمبر 2025 میں سب سے پہلے امریکا میں متعارف کرایا گیا تھا اور اب یہ دنیا بھر میں 98 زبانوں میں دستیاب ہے۔

