امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شاید اس کہاوت پر یقین رکھتے ہیں کہ قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ مارکر ہو۔
عرب نیوز کے مطابق جمعرات کو ہونے والے کابینہ اجلاس میں ایران جنگ، ملک کے کئی بڑے ہوائی اڈوں پر طویل ترین سکیورٹی قطاروں، تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور غیر مستحکم سٹاک مارکیٹوں جیسے موضوعات زیرِ بحث تھے۔
ایسے میں صدر ٹرمپ نے اچانک خاص طور پر تیار کیے گئے ایک سیاہ اور سنہری مارکر کو اٹھا کر اس کی کہانی بیان کرنا شروع کر دی کہ اُن کا پسندیدہ یہ مارکر وائٹ ہاؤس کا حصہ کیسے بنا؟
’یہ قلم دیکھ رہے ہیں آپ؟‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے قریباً پانچ منٹ تک وقفے وقفے سے جاری رہنے والی گفتگو کے آغاز میں کہا کہ ’یہ قلم ایک دلچسپ مثال ہے۔‘
یہ ان کئی طویل ضمنی باتوں میں سے ایک تھی جو انہوں نے اجلاس کے دوران کیں، اور بعض اوقات یہ خاصی عجیب محسوس ہو رہی تھیں، خاص طور پر اس لیے کہ ان کے اعلٰی مشیر زیادہ اہم معاملات پر بات کر سکتے تھے۔
مارکر پر یہ گفتگو اس وقت شروع ہوئی جب وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ، ایلچی سٹیو وِٹکوف، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو امریکہ کے ایران پر میزائل حملوں، تہران کی یورینیم افزودگی کی کوششوں اور خطرات کا سامنا کرتے امریکی فوجیوں کے بارے میں سنجیدہ تبصرے کر چکے تھے۔
امریکی صدر نے یہ طویل کہانی اس بات کی مثال کے طور پر پیش کی کہ ان کی کاروباری سمجھ بوجھ کس طرح وفاقی اخراجات میں بہتر اور کفایت شعارانہ نتائج لا سکتی ہے۔
وہ ساتھ ہی یہ بھی واضح کرنا چاہتے تھے کہ واشنگٹن میں فیڈرل ریزرو کی عمارت کی مُرمت پر بہت زیادہ رقم خرچ ہو رہی ہے، جس پر وہ طویل عرصے سے تنقید کرتے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اپنی ترجیحات کی سمت دُرست کرنا ہوگی۔‘یہ قصہ اس دعوے سے شروع ہوا کہ کبھی وائٹ ہاؤس میں ’خوب صورت‘ بال پوائنٹس کھے جاتے تھے جن کی قیمت ایک ایک ہزار ڈالر تھی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق ان بال پوائنٹس کا بیش قیمت ہونا اس وقت ایک مسئلہ بن جاتا تھا جب وہ تقریبات میں بل پر دستخط کرنے کے بعد یادگار کے طور پر یہ بال پوائنٹ قانون سازوں، حامیوں اور دیگر افراد میں تقسیم کرتے تھے۔
عام طور پر جن شخصیات میں یہ بال پوائنٹس تقسیم کیے جاتے تھے انہوں نے قانون سازی میں کردار ادا کیا ہوتا تھا۔ بعض اوقات ان میں بچے بھی شامل ہوتے تھے، جن کے بارے میں انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ وہ اس تحفے کی قدر نہیں جانتے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’کبھی کبھی 30، 40 لوگ ہوتے۔‘
اگرچہ صدر ٹرمپ شان و شوکت پسند کرنے کے لیے بھی جانے جاتے ہیں جس میں وائٹ ہاؤس کا 400 ملین ڈالر سے تعمیر کیا گیا وسیع بال رُوم بھی شامل ہے جسے بنانے کے لیے انہوں نے ایسٹ وِنگ کو گرا دیا لیکن ساتھ ہی ان کا یہ خیال ہے کہ اس قدر مہنگے قلم تقسیم کرنا انہیں فطری طور پر قصوروار محسوس کراتا تھا۔
صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ ’میں حکومتی معیشت سے اپنی ذات کی طرح محبت کرتا ہوں۔میں پیسہ بچانا چاہتا ہوں۔‘

امریکی صدر نے بتایا کہ انہوں نے ایک مارکر بنانے والی کمپنی سے رابطہ کیا اور پہلے تو اس کا نام لینے سے گریز کیا تاکہ اسے زیادہ تشہیر نہ ملے، مگر پھر یہ بتا ہی دیا کہ وہ شارپی تھی جو ان کی طویل عرصہ سے پسندیدہ کمپنی رہی ہے جس پر کابینہ کے ارکان ہنس پڑے۔
ڈونلڈ ٹرمپ ایک مشہور کاروباری شخصیت کے طور پر کئی دہائیوں تک ان قلموں سے ہی آٹوگراف دیتے رہے یا اخباری تراشوں پر نشان لگا کر ذاتی نوٹس کے ساتھ بھیجتے رہے۔
یہ ان کی مخصوص موٹی سیاہ سیاہی میں لکھے ہوتے تھے اور بطور صدر بھی وہ ایگزیکٹیو آرڈرز، اعلانات اور بِلوں پر دستخط کے لیے شارپی کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے کمپنی سے رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ وہ سنہرے وائٹ ہاؤس لوگو کے ساتھ سیاہ قلم بنا سکتے ہیں اور اس کے لیے کوئی قیمت نہیں لیں گے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے اصرار کیا کہ وہ ہر مارکر کے 5 ڈالر ادا کریں گے۔ آن لائن تلاش سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عام شارپی کی قیمت عموماً 1 سے 2 ڈالر ہوتی ہے۔

ٹرمپ نے بتایا کہ ’شارپی کے سربراہ کو فون جاتا ہے۔ مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم تھا وہ کون ہے؟ اس نے کہا، ’کیا آپ واقعی صدر ہیں؟‘
یہ وائٹ ہاؤس میں ’شارپی گیٹ‘ سکینڈل کے بعد اس مارکر کو ملنے والی سب سے زیادہ توجہ تھی جو صدر ٹرمپ کے پہلے دور میں سمندری طوفان ڈورین کے دوران پیش آیا تھا۔
تاہم شارپی بنانے والی کمپنی نیول برانڈز (جس کا صدر دفتر اٹلانٹا میں ہے) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’انہیں اس گفتگو کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں، البتہ شارپی کو موجودہ اور سابق امریکی صدور، منتخب نمائندے، مشہور شخصیات، کھلاڑیوں اور فنکاروں سمیت کئی لوگ استعمال کرتے ہیں۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پوری بات چیت کو ’ایک کاروباری کہانی‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’5 ڈالر میں مجھے 1000 ڈالر کی قیمت سے بہتر قلم ملتا ہے، اور میں انہیں بانٹ بھی سکتا ہوں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’اور سچ کہوں تو یہ بہت مقبول ہو گئے ہیں، اب میں آپ کو اور کیا بتاؤں؟‘
صدر ٹرمپ نے شارپی کے بارے میں اپنی یادیں بیان کرنے کے بعد اپنی کہانی سنانے کی صلاحیت پر ایک لمحہ خوشی کا اظہار کیا اور پھر وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کو بات کرنے کا موقع دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’گڈ لک، سکاٹ۔‘
اس پر کابینہ کے باقی ارکان ایک بار پھر ہنس پڑے۔’جی سر۔‘ سکاٹ بیسنٹ نے جواب دیا اور مزید کہا کہ ‘آپ کے بعد ہمیشہ کی طرح بات کرنا آسان نہیں ہوتا۔‘

