سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے جمعہ کو یوکرین کے ساتھ دفاعی سامان کی خریداری سے متعلق ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔
سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق جدہ میں ہونے والے اس معاہدے پر سعودی وزارتِ دفاع کے نائب وزیر برائے ایگزیکٹیو امور خالد البیاری اور یوکرین کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل اینڈری ہیناتوف نے دستخط کیے۔
اس معاہدے کا مقصد فوجی سازوسامان اور دفاعی خدمات کے حصول کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے، اور یہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
اس سے قبل سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جمعے کی صبح جدہ میں ملاقات کی۔
ملاقات میں سعودی عرب اور یوکرین کے تعلقات کا جائزہ، علاقائی اور بین الاقوامی صورت حال، خصوصاً مشرق وسطی میں جاری فوجی کشیدگی اور یوکرینی بحران پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سعودی وزیر مملکت و کابینہ کے رکن اور قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر مساعد بن محمد العبیان، وزیر ماحولیات، پانی و زراعت عبد الرحمن الفضلی، جنرل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ خالد بن علی الحمیدان اور یوکرین میں سعودی سفیر محمد البرکہ بھی ملاقات میں موجود تھے۔
عرب نیوز کے مطابق صدر زیلنسکی نے اچانک ایسے وقت میں سعودی عرب کا دورہ کیا جب مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث خلیجی ریاستوں نے یوکرینی فضائی دفاعی ٹیکنالوجی میں دلچسپی لی ہے۔

یوکرین خلیجی ملکوں کی مدد کے لیے رُوسی ڈرون گرانے میں اپنی مہارت کا فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہے۔
صدر زیلنسکی کا کہنا ہے ’28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے 200 سے زیادہ یوکرینی اینٹی ڈرون ایکسپرٹ مشرق وسطی کے کئی ممالک میں تعینات کیے گئے ہیں۔‘
یوکرین نے اپنی سستی اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کو زیادہ مہنگے فضائی دفاعی نظام سے تبدیل کرنے کی تجویز دی ہے، جو خلیجی ممالک اس وقت ایرانی ڈرون مار گرانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس سعودی عرب نے یوکرینی اور روسی وفود کے ساتھ امریکی حکام کے مذاکرات کی میزبانی کی تھی، تاکہ فروری 2022 کو یوکرین پر روسی حملے سے شروع ہونے والی چار سال سے جنگ کا خاتمہ کیا جا سکے۔

