خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدوی نے جمعرات کو ایران پر علاقائی کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچوں پر جاری حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بحران کے حل کے لیے ہونے والی کسی بھی سفارتی کوشش میں خلیجی ریاستوں کو بھی شامل کیا جائے۔
جاسم محمد البدوی نے مختلف بیانات میں یہ کہا کہ حالیہ کشیدگی کا ذمہ دار ایران ہے اور خبردار کیا کہ اس (ایران) کے اقدامات علاقائی استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ بن رہے ہیں۔
انہوں نے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور کویت میں آئل ریفائنریز پر ایرانی حملوں کو ’منظم‘ قرار دیا جن میں توانائی کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
’ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس بحران کے حل کے لیے ہونے والی کسی بھی بات چیت یا معاہدے میں جی سی سی ممالک کو شامل کرنا ضروری ہے، تاکہ ان کی سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنایا جا سکے۔‘
جاسم محمد البدوی نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی اپنی ایک تقریر میں کہا کہ ’خلیجی ریاستوں کو اگرچہ اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، مگر وہ سفارت کاری کو ترجیح دیتی ہیں۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’عالمی برادری کو ایران کو حملے روکنے کے لیے ایک مشترکہ پیغام دینا چاہیے۔‘ جاسم محمد البدوی نے خطے میں مزید کشیدگی روکنے کے لیے ایران پر مربوط عالمی دباؤ بڑھانے پر بھی زور دیا۔
خلیج تعاون کونسل کے سربراہ نے حالیہ تنازعے کے بعد کسی بھی ایسے بندوبست کو مسترد کر دیا جو خطے کے نقشے کو ازسرِنو ترتیب دینے کی کوشش کرے، اور خبردار کیا کہ بحران کے خاتمے کے بعد جغرافیائی سیاسی سرحدوں میں تبدیلی کی کوششوں سے گریز کیا جائے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ’ایران آبنائے ہُرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ادائیگیاں طلب کر رہا ہے، جو ایک اہم عالمی بحری راستہ ہے جہاں سے دنیا کی تیل کی فراہمی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔‘
خلیج تعاون کونسل کے سربراہ عوامی سطح پر اس نوعیت کا الزام عائد کرنے والے پہلے اعلٰی علاقائی عہدیدار ہیں۔
بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر مشتمل چھ رکنی اتحاد کے سربراہ جاسم محمد البدوی نے یہ بیان ریاض میں ایک پریس کانفرنس کے دوران دیا۔

