پاکستان نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے ملک آنے والی غیر ملکی ایئرلائنز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ واپسی کے لیے درکار ایندھن اپنے ساتھ لے کر آئیں۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹم کے مطابق یہ ہدایت رواں ماہ مارچ کے اختتام تک کے لیے نافذ العمل ہے اور اس کا مقصد بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے ممکنہ اثرات سے پیشگی نمٹنا ہے۔
حکام کے مطابق یہ فیصلہ کسی فوری بحران کے نتیجے میں نہیں بلکہ ایک احتیاطی حکمت عملی کے طور پر کیا گیا ہے۔ ترجمان پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی سیف اللہ کا اردو نیوز سے گفتگو میں کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث فضائی آپریشنز متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اور اسی پیش نظر یہ قدم اٹھایا گیا ہے تاکہ پروازوں کی روانگی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی وجہ سے ایندھن کی فراہمی متاثر ہوتی ہے تو ایئرلائنز کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس لیے انہیں پہلے سے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ جنگی صورتحال کے پیش جیٹ فیول کی کمی کو دیکھتے ہوئے ملک میں اب تک جیٹ فیول 176 روپے سے بڑھ کر 417 روپے فی لیٹر تک جاپہنچا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی حیثیت عالمی فضائی راستوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ یورپ، ایشیا اور افریقہ کے درمیان سفر کرنے والی بیشتر پروازیں اسی خطے کی فضائی حدود سے گزرتی ہیں۔ ایسے میں اگر کسی ملک کی فضائی حدود بند ہو جائے یا سکیورٹی خدشات بڑھ جائیں تو ایئرلائنز کو متبادل اور طویل راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف پروازوں کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے بلکہ ایندھن کی کھپت بھی زیادہ ہو جاتی ہے، جو براہ راست اخراجات میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایئرلائنز کو جس بڑے چیلنج کا سامنا ہے وہ ایندھن کی منصوبہ بندی ہے۔ عام حالات میں طیارے منزل پر پہنچ کر وہیں سے واپسی کے لیے ایندھن حاصل کرتے ہیں، مگر اب انہیں اضافی ایندھن اپنے ساتھ لے کر سفر کرنا پڑ رہا ہے۔ اس عمل کو ٹینکرنگ کہا جاتا ہے، جو عام طور پر لاگت بچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، مگر اس وقت یہ ایک مجبوری بن چکا ہے۔
سینیئر ایوی ایشن رپورٹر راجہ کامران کے مطابق اضافی ایندھن لے جانے کا مطلب ہے کہ طیارے کا وزن بڑھ جاتا ہے، اور ہر طیارے کی وزن اٹھانے کی ایک حد ہوتی ہے۔ اس حد کو برقرار رکھنے کے لیے ایئرلائنز کو یا تو مسافروں کی تعداد کم کرنا پڑتی ہے یا پھر کارگو اور سامان کو محدود کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں کئی مسافروں نے شکایت کی ہے کہ ان کا سامان پرواز میں شامل نہیں کیا گیا یا انہیں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق رواں ہفتے بدھ کے روز کراچی سے دوحہ جانے والی ایک غیر ملکی پرواز کو ایندھن کی ضروریات کے باعث مسقط میں لینڈنگ کرنا پڑی تھی۔ مسافروں کا کہنا تھا کہ اضافی ایندھن کی وجہ سے طیارے میں وزن کی گنجائش کم ہو گئی تھی، جس کے باعث سامان چھوڑنا پڑا۔
اس صورتحال کا ایک اہم پہلو معاشی بھی ہے۔ ایندھن کسی بھی ایئرلائن کے کل اخراجات کا بڑا حصہ ہوتا ہے اور جب ایئرلائنز کو اضافی ایندھن لے کر سفر کرنا پڑے تو ان کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وزن بڑھنے سے طیارے کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں مزید ایندھن خرچ ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو ایئرلائنز کے لیے مالی دباؤ بڑھ سکتا ہے، اور وہ اس کا بوجھ مسافروں پر ڈالنے پر مجبور ہو سکتی ہیں۔
عالمی سطح پر بھی فضائی صنعت کو اسی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث کئی ایئرلائنز نے اپنے روٹس تبدیل کر دیے ہیں، کچھ نے مخصوص پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ طویل روٹس اختیار کرنے کے باعث پروازوں کا دورانیہ بڑھ رہا ہے، جس سے نہ صرف مسافروں کو مشکلات پیش آ رہی ہیں بلکہ عملے کے اوقات کار اور طیاروں کی شیڈولنگ بھی متاثر ہو رہی ہے۔

بین الاقوامی ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی نظام انتہائی حساس ہوتا ہے اور کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایئرلائنز اور ایوی ایشن اتھارٹیز مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں اور اپنے آپریشنز کو اس کے مطابق ڈھال رہی ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ اقدام بظاہر ایک وقتی حل ہے، مگر اس کے طویل المدتی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے یا طویل عرصے تک غیر یقینی برقرار رہتی ہے تو ایئرلائنز متبادل راستے تلاش کر سکتی ہیں، جس سے پاکستان کے ایئرپورٹس پر ٹریفک کم ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کارگو سروسز بھی متاثر ہو سکتی ہیں، جو ملک کی معیشت کے لیے اہمیت رکھتی ہیں۔
تاہم بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے بروقت اقدامات بڑے بحران سے بچنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر پاکستان نے پیشگی اقدامات نہ کیے ہوتے تو ممکن تھا کہ اچانک ایندھن کی کمی یا دیگر مسائل کے باعث پروازوں کا نظام درہم برہم ہو جاتا۔
مجموعی طور پر یہ صورتحال اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ عالمی سیاست، علاقائی کشیدگی اور معاشی عوامل کس طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ فضائی سفر، جو بظاہر ایک روزمرہ سہولت محسوس ہوتا ہے، درحقیقت ایک پیچیدہ نظام کا حصہ ہے جس پر عالمی حالات کا براہ راست اثر پڑتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے غیر ملکی ایئرلائنز کو واپسی کا ایندھن ساتھ لانے کی ہدایت اسی پیچیدہ نظام میں ایک حفاظتی قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ اگرچہ اس کے نتیجے میں وقتی مشکلات ضرور سامنے آ رہی ہیں، مگر حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام طویل المدتی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔

