امریکی فورسز کی زیرِحراست وینزویلا کے معزول صدر مادورو اور ان کی اہلیہ نے پہلی بار سوشل میڈیا پر پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ وہ ’ثابت قدم اور پرسکون‘ ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق مادورو اور ان کی اہلیہ نیویارک کی بروک لن جیل میں تقریباً تین ماہ سے قید ہیں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ ٹھیک ہیں، مضبوط ہیں، پُرسکون ہیں اور مسلسل دعاؤں میں ہیں۔‘
یہ پیغام مادورو کے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کیا گیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ اسے کس نے ان کی طرف سے پوسٹ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں آپ کی بھیجی ہوئی باتیں، پیغامات، ای میلز، خطوط اور دعائیں موصول ہوئی ہیں۔ ہر محبت بھرا لفظ، ہر ہمدردانہ عمل اور ہر حمایت کا اظہار ہماری روح کو مسرت بخشتا ہے اور ہمیں روحانی طور پر مضبوط کرتا ہے۔‘
ذرائع نے بتایا کہ مادورو بائبل پڑھتے ہیں اور بروکلن کے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر میں کچھ قیدی انہیں ’صدر‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ انہیں صرف فون کے ذریعے اپنے خاندان اور وکیلوں سے بات کرنے کی اجازت ہے اور ہر کال زیادہ سے زیادہ پندرہ منٹ کی ہو سکتی ہے۔
ان کے بیٹے جن کا نام نکولیسیتو ہے، کہتے ہیں کہ ان کے والد جیل میں ٹھیک اور پُرسکون ہیں اور جیل میں ورزش بھی کر رہے ہیں۔
مادورو جو خود کو جنگ کا قیدی کہتے ہیں، نے پانچ جنوری کو نیویارک میں عدالت میں پیشی کے بعد سے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ’ہم اپنے لوگوں کی اس صلاحیت کو دل کی گہرائیوں سے سراہتے ہیں ہے کہ وہ مشکل حالات میں بھی متحد رہتے ہیں، محبت، شعور اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، چاہے وہ وینیزویلا میں ہوں یا اس کے باہر۔‘
جمعے کی سماعت میں، ایک گھنٹے کی پیشی کے دوران، جج نے دفاع کی اس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ اپنے قانونی اخراجات خود برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ انہیں حکومت کی طرف سے مالی مدد نہیں مل رہی۔
دونوں نے عدالت میں اپنے خلاف الزامات کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔

