صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہفتہ کے روز پورے امریکہ میں شروع ہو گئے ہیں جہاں لاکھوں افراد نے ان کے مبینہ آمرانہ رجحانات اور دیگر ظالمانہ و قانون شکنی پر مبنی طرزِ حکمرانی کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
یہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں تیسری بار ہے کہ امریکی عوام ’نو کنگز‘ نامی عوامی تحریک کے تحت سڑکوں پر نکلے ہیں، جو جنوری 2025 میں ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت شروع ہونے کے بعد ان کے خلاف سب سے نمایاں اور مؤثر احتجاجی پلیٹ فارم بن چکی ہے۔ اب ایران جنگ نے ٹرمپ مخالف جذبات کو ابھارا ہے۔
ٹرمپ مخالف جذبات امریکہ کی سرحدوں سے باہر بھی پھیل گئے ہیں، اور ہفتہ کو یورپ کے شہروں جیسے ایمسٹرڈیم، میڈرڈ اور روم میں بھی ٹرمپ مخالف ریلیاں نکالی گئیں۔
امریکہ میں احتجاج کئی شہروں سے شروع ہوا، جن میں اٹلانٹا بھی شامل ہے، جہاں ہزاروں افراد ایک پارک میں جمع ہوئے اور ٹرمپ کی ’آمریت‘ کے خلاف نغرے لگائے۔
ریلی میں ایک شخص نے ایک پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا کہ ’ہم اپنی جمہوریت کھو رہے ہیں۔‘
مشی گن کے شہر ویسٹ بلوم فیلڈ (ڈیٹرائٹ کے قریب) میں لوگوں نے شدید سردی کے باوجود احتجاج کیا۔
دارالحکومت واشنگٹن میں مظاہرین، جن کے بینرز پر ’ٹرمپ کو ابھی جانا ہوگا!‘ اور ’فاشزم کا مقابلہ کرو‘ جیسے نعرے درج تھے، پوٹومیک دریا پر بنے پل سے گزرتے ہوئے لنکن میموریل تک مارچ کرتے رہے، جو ماضی میں تاریخی شہری حقوق کی تحریکوں کا مرکز رہا ہے۔
ریکارڈ تعداد متوقع
پہلا ’نو کنگز ڈے‘ کا ملک گیر احتجاج گذشتہ جون میں ٹرمپ کی 79ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوا تھا، جو واشنگٹن میں ان کی جانب سے منعقدہ فوجی پریڈ کے ساتھ ہی ہوا۔ اس میں نیویارک سے سان فرانسسکو تک لاکھوں افراد نے شرکت کی۔
اکتوبر میں ہونے والے دوسرے احتجاج میں منتظمین کے مطابق تقریباً سات ملین افراد نے حصہ لیا۔
اب مقصد یہ ہے کہ ہفتہ کے روز اس سے بھی زیادہ لوگوں کو باہر نکالا جائے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹرمپ کی مقبولیت 40 فیصد سے نیچے جا چکی ہے اور نومبر میں وسط مدتی انتخابات قریب ہیں، جن میں ان کی ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول کھو سکتی ہے۔
جس طرح ٹرمپ کو ان کی ’میک امریکہ گریٹ اگین‘ تحریک میں بہت سے لوگ عقیدت کی نظر سے دیکھتے ہیں، اسی طرح امریکہ میں دیگر لوگ انہیں سخت ناپسند کرتے ہیں۔

مخالفین ان کے صدارتی اختیارات کے ذریعے حکومت چلانے کے رجحان، محکمہ انصاف کو مخالفین کے خلاف استعمال کرنے، فوسل فیولز سے وابستگی اور موسمیاتی تبدیلی کے انکار پر تنقید کرتے ہیں۔
وہ نسلی اور صنفی تنوع کے پروگراموں کو ختم کرنے اور امن کے داعی ہونے کے باوجود امریکی فوجی طاقت کے استعمال پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔
ویٹرنز کی تنظیم ’کامن ڈیفنس‘ سے وابستہ نوید شاہ نے کہا کہ ’آخری بار جب ہم مارچ پر نکلے تھے، اس کے بعد سے یہ حکومت ہمیں مزید جنگ میں دھکیل رہی ہے۔‘
’ملک کے اندر ہم نے شہریوں کو فوجی طرز کی فورسز کے ہاتھوں سڑکوں پر مرتے دیکھا ہے۔ ہم نے خاندانوں کو ٹوٹتے اور تارکینِ وطن کمیونٹیز کو نشانہ بنتے دیکھا ہے۔ یہ سب ایک ایسے شخص کے نام پر ہو رہا ہے جو بادشاہ کی طرح حکمرانی کرنا چاہتا ہے۔‘
منتظمین کے مطابق 3,000 سے زیادہ ریلیاں بڑے شہروں، مضافاتی علاقوں اور دیہی علاقوں میں منعقد کی جا رہی ہیں۔

مِنّیسوٹا ایک اہم مرکز بن چکا ہے، کیونکہ چند ماہ قبل یہاں ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کے خلاف قومی بحث نے زور پکڑا تھا۔
مشہور راک گلوکار بروس سپرنگسٹین، جو صدر کے سخت ناقد ہیں، ریاست کے دارالحکومت سینٹ پال میں اپنا گانا ’سٹریٹس آف منی ایپولس‘ پیش کریں گے۔
انہوں نے یہ احتجاجی گانا صرف 24 گھنٹوں میں لکھا اور ریکارڈ کیا، جو دو امریکی شہریوں رینی گڈ اور الیکس پریٹی کی یاد میں ہے، جو جنوری میں امیگریشن پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے دوران وفاقی اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے تھے۔
2025 میں ایک سادہ احتجاجی دن کے طور پر شروع ہونے والی یہ تحریک اب ٹرمپ کے خلاف ایک ملک گیر مزاحمتی تحریک بن چکی ہے۔
منتظمین کے مطابق ہفتہ کے روز احتجاج میں شریک ہونے والوں میں سے دو تہائی افراد بڑے شہروں سے نہیں ہیں، جو کہ امریکہ میں اکثر ڈیموکریٹک پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں، اور یہ شرح گزشتہ احتجاج کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

