سعودی عرب نے سنیچر کو اعلان کیا ہے کہ اس نے ریاض کے علاقے کو نشانہ بنانے والا ایک بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق ’ریاض ریجن کی سمت فائر کیا گیا بیلسٹک میزائل بروقت روک کر تباہ کر دیا گیا۔‘
عرب نیوز کے مطابق یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ اسرائیل تنازع کے دوران خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
اس سے قبل جمعے کو بھی سعودی وزارتِ دفاع نے بتایا تھا کہ ’دارالحکومت ریاض کو نشانہ بنانے والے متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کیا گیا۔‘
وزارت کے مطابق ’چھ بیلسٹک میزائل ریاض کی طرف فائر کیے گئے، جن میں سے دو کو فضا میں مار گرایا گیا جبکہ باقی چار یا تو خلیجِ عرب میں گرے یا غیر آباد علاقوں میں جا گرے۔‘
اسی طرح آدھی رات کے بعد سے ریاض پر 10 سے زائد ڈرون حملے کیے گئے جنہیں سعودی فضائی دفاعی نظام نے مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔
وزارتِ دفاع کے مطابق 28 فروری سے اب تک سعودی عرب پر مجموعی طور پر 740 ڈرون حملے، 54 بیلسٹک میزائل اور سات کروز میزائل داغے جا چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر کو راستے میں ہی تباہ کر دیا گیا۔
دوسری جانب کویت میں سول ایوی ایشن حکام نے ڈرون حملوں کے بعد ایئرپورٹ کے ریڈار سسٹم کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاع دی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے بھی سنیچر کی صبح بتایا کہ اس کا فضائی دفاعی نظام ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے میں مصروف ہے۔ وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا کہ ’ایران سے فائر کیے گئے کروز میزائل اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کیا جا رہا ہے۔‘
ابوظبی میڈیا آفس کے مطابق ’خلیفہ اکنامک زونز ابوظہبی کے قریب اس وقت تین مقامات پر آگ بھڑک اٹھی جب ایک تباہ شدہ میزائل کا ملبہ وہاں گرا۔‘
حکام کے مطابق ’اس واقعے میں پانچ انڈین اور ایک پاکستانی شہری زخمی ہوئے جن کی حالت معمولی سے درمیانی نوعیت کی بتائی گئی ہے۔ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے جبکہ مزید کولنگ کا عمل جاری ہیں۔‘
اماراتی حکام کے مطابق ’ایرانی حملوں کے آغاز سے اب تک ان کے فضائی دفاعی نظام نے تین سو 78 بیلسٹک میزائل، 15 کروز میزائل اور ایک ہزار 835 ڈرونز کو نشانہ بنایا ہے۔
ادھر عمان کی حکومت نے بتایا کہ صلالہ بندرگاہ پر ایک ڈرون حملے میں ایک کارکن زخمی ہوا جبکہ ایک کرین کو جزوی نقصان پہنچا۔
یاد رہے کہ عمان اس جاری جنگ سے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

