عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان قرض پروگرام کے تحت ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی اگلی قسط کے اجرا کے لیے ‘سٹاف لیول’ معاہدہ طے پا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمعے کو واشنگٹن سے جاری ہونے والے ایک بیان میں آئی ایم ایف نے تصدیق کی ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کی معاشی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے جس سے مجموعی طور پر ملک کے لیے فنڈنگ کے راستے کھلیں گے۔
اس معاہدے کے تحت پاکستان کو آئی ایم ایف کے ’ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی‘ کے تحت ایک ارب ڈالر جبکہ ’ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی‘ کے تحت 210 ملین ڈالر تک رسائی حاصل ہو گی۔
اس نئی قسط کے بعد جاری پروگرام کے تحت پاکستان کو ملنے والی مجموعی رقم 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ تاہم اس معاہدے پر حتمی عمل درآمد آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔
قریباً سات ارب ڈالر کے اس وسیع البنیاد پروگرام کے تحت آئی ایم ایف نے اسلام آباد کے پالیسی سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ مہنگائی کی شرح کو قابو میں رکھنے اور بیرونی ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے ’مانیٹری پالیسی‘ کو سخت رکھیں۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ معاشی فیصلے اعداد و شمار کی بنیاد پر ہونے چاہئیں تاکہ افراطِ زر کی توقعات کو ایک جگہ منجمد کیا جا سکے۔
پاکستان کے مرکزی بینک (سٹیٹ بینک) نے بھی رواں ماہ اپنی بنیادی پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا ہے جس کا مقصد شرحِ سود میں کمی کے سلسلے کو عارضی طور پر روکنا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور علاقائی کشیدگی کی وجہ سے پاکستان جیسی درآمدات پر انحصار کرنے والی معیشت کے لیے مہنگائی کے نئے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔
آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والا یہ حالیہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سخت اصلاحات کے عمل سے گزر رہا ہے۔
عالمی ادارے کا ماننا ہے کہ اگر ان اصلاحات پر تسلسل سے عمل کیا گیا تو طویل مدت میں ملکی معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں ہوں گے۔

