امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں جیوری نے میٹا اور گوگل کو نشے کی لت کی طرح عادی بنا دینی والی ایپس ڈیزائن کرنے اور ان کے ممکنہ نقصانات سے صارفین کو آگاہ نہ کرنے پر غفلت کا مرتکب قرار دے دیا اور ایک کم عمر صارف کو پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
اس اہم فیصلے کو سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف اسی نوعیت کے مزید مقدمات کی راہ ہموار کرنے والا قرار دیا جا رہا ہے۔
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس مقدمے کی مدعی جو اب 20 سالہ خاتون ہیں اور ان کی شناخت کے جی ایم (کیلی) کے نام سے شناخت کی گئی ہے، ان کو ہرجانے کی مد میں میٹا کی جانب سے 42 لاکھ ڈالر اورگوگل کی طرف سے 18 لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔
کیلی کے مطابق وہ کم عمری میں یوٹیوب اور انسٹاگرام کی عادی ہو گئیں جس کی وجہ ایپس میں شامل توجہ کھینچنے والی خصوصیات جیسے لامتناہی سکرول اور الگورتھم پر مبنی تجاویز تھیں۔ انہوں نے ذاتی نقصان کے مقدمے میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کمپنیوں کی تیار کردہ ایپس نے انہیں ڈپریشن اور خودکشی جیسے خیالات کی طرف دھکیلا۔
مدعی کے وکلا کا کہنا تھا کہ ’آج کا فیصلہ پورے شعبے کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اب جوابدہی کا وقت آ چکا ہے۔‘
دوسری جانب میٹا اور گوگل نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اسے چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
این بی سی کی رپورٹ کے مطابق فروری میں شروع ہونے والے اس مقدمے میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران بشمول مارک زکربرگ نے گواہی دی تھی۔ یہ مقدمہ ہزاروں اسی نوعیت کے مشترکہ مقدمات کے لیے ایک آزمائشی کیس کی حیثیت رکھتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ان مقدمات میں 1600 سے زائد مدعی شامل ہیں، جن میں 350 خاندان اور 250 سے زائد سکول اضلاع بھی شامل ہیں۔
اس مقدمے میں ’سنیپ‘ اور ٹک ٹاک بھی فریق تھے تاہم دونوں کمپنیوں نے ٹرائل سے قبل خفیہ شرائط پر تصفیہ کر لیا تھا۔
بدھ کو سنایا جانے والا فیصلہ میٹا کے لیے اس ہفتے کا واحد قانونی دھچکا نہیں تھا۔ اس سے ایک روز قبل ریاست نیو میکسیکو میں جیوری نے ایک مقدمے میں کمپنی کو ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا، جس میں الزام تھا کہ اس کے پلیٹ فارمز واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام بچوں کے جنسی استحصال میں سہولت کاری کا باعث بنے۔ جیوری نے مختصر غور و خوض کے بعد کمپنی کو 37 کروڑ 50 لاکھ ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
ادھر امریکہ کی مختلف ریاستیں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف قانون سازی تیز کر رہی ہیں کیونکہ امریکی کانگریس سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق وفاقی سطح پر مؤثر قوانین منظور کرنے میں ناکام رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال کم از کم 20 ریاستوں نے بچوں اور سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق قوانین نافذ کیے۔

