سعودی خبررساں ادارے ایس پی اے کے مطابق 28 فروری 2026 سے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک ایران کی جانب سے میزائلوں اور ڈرون حملوں کی زد میں ہیں۔ اہم تنصیبات اور شہری سہولیات کو نشانہ بنانے والے یہ حملے خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیے جا رہے ہیں، اب تک داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کی مجموعی تعداد 4,391 تک پہنچ چکی ہے۔
اس کے برعکس، ایران پر براہ راست حملہ آور اسرائیل کو 930 میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جو خطے میں مجموعی حملوں کا محض 17 فیصد بنتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں کی شدت اور تسلسل میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس تنازع کے آغاز سے اب تک سعودی عرب پر 723 میزائل اور ڈرون داغے جا چکے ہیں۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات پر 2,156، بحرین پر 429، کویت پر 791، قطر پر 270 جبکہ عمان پر 22 حملے کیے گئے۔
خلیجی ممالک کے فضائی دفاعی نظاموں نے ان خطرات کو ناکام بنانے میں غیر معمولی مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے اور خود کو خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک مضبوط دفاعی حصار ثابت کیا ہے۔
خلیجی عرب ممالک کو نشانہ بنانے والے یہ حملے بین الاقوامی انسانی قانون اور اس کے مروجہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ اور توانائی کے بین الاقوامی تحفظ کے لیے بھی براہ راست خطرہ ہیں۔
